طیاروں کی بمباری، بارہ شہری ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں اطلاعات کے مطابق جیٹ طیاروں کی بمباری میں کم سے کم بارہ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
دیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح سوات اور دیر بالا کے دور دراز سرحدی علاقے کارودرہ میں پیش آیا۔
ایک عینی شاہد احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات سے کچھ خاندان نقل مکانی کرکے دیر بالا آ رہے تھے کہ پہاڑی علاقے میں ان پر لڑاکا طیاروں سے شیلنگ کی گئی جس میں کئی افراد موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ جیٹ طیاروں نے دو بار نقل مکانی کرنے والے افراد کو نشانہ بنایا جس سے مرنے والے افراد کے اعضاء دور دور تک پھیل گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
یونین کونسل پشتہ کے نائب ناظم جہان پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں جو سوات سے نقل مکانی کرکے دیر بالا آ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں تین افراد کو سپردخاک کردیا گیا ہے جبکہ دیگر لاشیں جائے وقوعہ پر پڑی ہوئی ہیں جہاں لڑاکا طیارے بدستور گشت کر رہے ہیں۔
ادھر تھانہ واڑی دیر کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ بمباری سے تین افراد ہلاک اور بارہ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو دیر خاص پہنچایا گیا ہے۔
دوسری جانب شورش زدہ اضلاع سوات میں جاری فوجی کارروائی اور دو ہفتوں سے نافذ کرفیو کی وجہ سے ضلع بھر میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے لنڈا کئی سے لیکر تحصیل مٹہ تک سارے علاقے کو سیل کیا ہوا ہے اور وہاں کسی کو اپنے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ علاقے میں ٹیلی فون اور موبائل سروس بھی مسلسل معطل ہے جس کی وجہ سے آزاد ذرائع سے اطلاعات ملنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مالاکنڈ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب بھی مینگورہ شہر میں ہزاروں لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں جو کرفیو کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کرفیو کے باعث گھروں کے اندر محصور لوگوں کے پاس خوراک ختم ہو گئی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارہ کر رہے ہیں۔
ادھر آپریشن اور مسلسل کرفیو کی وجہ سے بالائی سوات کے تمام علاقے بھی گزشتہ دو ہفتوں سے صدر مقام مینگورہ اور دیگر علاقوں سے کٹے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں بازاروں اور دوکانوں میں آٹا اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء ختم ہوگئی ہیں۔
بحرین کے ایک باشندے محمد اقبال نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ پچھلے دو ہفتوں سے بالائی سوات کے تمام سڑکیں اور بازار بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں آٹا اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء ختم ہوگئی ہیں جبکہ ضروری ادویات کی بھی قلت ہے جس سے بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔






















