پسند کی شادی کرنے والا جوڑا قتل

خواتین کے حق میں مظاہرہ
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ سال ایک ہزار دو سو دس خواتین کو قتل کیا گیا: کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

کراچی کے نواحی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر فائرنگ سے چھ سال پہلے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قتل کردیا۔ مقتولین کے ورثا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کاروکاری کی رسم کا نتیجہ ہے۔

پولیس کے مطابق کورنگی صنعتی علاقے میں واقع مہران ٹاؤن میں نامعلوم مسلح افراد نے منگل کو علی الصبح چالیس سالہ محمد امین بلیدی اور ان کی اہلیہ زرینہ بلیدی کو گولیاں مار کر قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ تاہم واقعے میں ان کا پانچ سالہ بیٹا اسد عباس محفوظ رہا۔

مقتولین کا تعلق بلوچستان کی سرحد کے قریب واقع ضلع جیکب آباد سے ہے۔

امین بلیدی کے بھائی عبدالرشید بلیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ زرینہ ان کی خالہ کی بیٹی تھی اور ان کے سابق شوہر محمد سلیم کو سات سال پہلے خاندانی دشمنی کی وجہ سے قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد ان کے بقول زرینہ کو ان کے بھائیوں نے فروخت کرنے کی کوشش کی تھی۔

عبدالرشید کے مطابق زرینہ فرار ہوکر کراچی آگئی تھیں اور وہاں امین بلیدی کے ساتھ کورٹ میرج کرلی۔

عبدالرشید نے بتایا کہ اس شادی پر ان کی بھابی کے بھائیوں کو اعتراض تھا اور انہوں نے ان دونوں کو کاروکاری (کالا کالی) قرار دے دیا تھا۔ انہیں شک ہے کہ دونوں کو ان کی بھابی کے رشتے داروں نے قتل کیا ہے۔

کورنگی صنعتی پولیس نے عبدالرشید کی مدعیت میں دوہرے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے تاہم فوری طور پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

عبدالرشید بلیدی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوراً گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل روزمرہ ہونے والے جرائم میں شامل ہے۔ کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں پچھلے سال ایک ہزار دو سو دس خواتین کو قتل کیا گیا جن میں چھ سو بارہ خواتین کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ کمیشن کے مطابق گذشتہ سال غیرت سمیت دوسری وجوہات کی بنا پرایک سو چودہ بچے بھی قتل ہوئے۔