بلوچستان پر نئی کتاب

بلوچ ریلی
،تصویر کا کیپشنکتاب میں 1947 سے پہلے اور بعد کے بلوچستان پر نظر ڈالی گئی ہے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ہم بلوچستان کے لیے جس حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں وہ پاکستان کی فریم ورک میں نہیں آتاہے اور بلوچ عوام کو 1947سے قبل کی تاریخی اور قومی حیثیت کے مطابق خود مختاری دی جائے کیونکہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں بلوچ اوردیگر محکوم اقوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کی مثال ہزاروں سال قبل کے پسماندہ دور میں بھی نہیں ملتی۔

بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور دانشور حبیب جالب بلوچ ایڈووکیٹ کی کتاب ’Blochistan Statehood And Nationalismْْْ‘ کی تقریب رونمائی سے سردار اخترمینگل کے علاوہ کتاب کے مصنف حبیب جالب اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

سردار اختر مینگل نے اپنے خطاب میں حبیب جالب بلوچ کو اس تاریخی کتاب کی اشاعت پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ا س وقت دنیا کی نظریں بلوچستان پر لگی ہوئی ہیں اور دنیا کی کوئی قوت اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتی ۔

انہوں نے کہا کہ ’کتاب میں 1947ءقبل اور بعد میں بلوچ قومی حیثیت کے بارے میں تفصیل سے جائزہ لیاگیا ہے گوکہ ملک کی نصابی کتب میں ہمارے بچوں کو بلوچستان کی اصل حقیقت اور تاریخ نہیں پڑھائی جاتی لیکن حبیب جالب نے اس کتاب کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیکر اصل حقائق کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے جو قابل داد ہے۔‘

بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ 1947ءسے قبل بلوچستان کی آزاد ریاست کی اپنی اسمبلی اور قانون تھے قیام پاکستان کے بعد ہمارا سب کچھ چھین لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کا دور ترقی اور تہذیب یافتہ ہے لیکن بلو چ قوم کی حالت ہزاروں سال قبل کی حالت سے زیادہ بد تر ہے اُس دور میں ایک چرواہے کو یہ ڈر نہیں تھا کہ ان کی بھیڑوں کو کوئی خونخوار جانور کھالیں گے لیکن آج اس جدید دور میں شہری وردی پہن کر سر عام لوگوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ ’اس وقت کلوگاروں ، دانشوروں کو ریاست کی جانب سے دھمکی نہیں ملتی تھی لیکن آج قانون کی عمارتیں اور ہزاروں کتابوں کے باوجود دانشوروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ حق لکھنے سے گریز کریں اور انکار کی صورت میں سر عام گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ 1979ءسے1993ءتک طالبان کیا تھے اور مدرسوں میں کیا کرتے رہے لیکن ان چار سالوں کے درمیان طالبان اتنے اچانک ہنر مند ہوگئے کہ جیٹ طیاروں ، ٹینکوں اور جدید سے جدید تر اسلحہ استعمال کرنے کے قابل ہوگئے جو فوج کے سواء کوئی نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا کوئی وجود نہیں بلکہ اپنے ہی فوجیوں کی داڑھیاں بڑھائی گئی ہیں پھر انہیں افغانستان بھیج کر پشتون قوم کا قتل عام کروایا۔