طالبان کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق

طالبان نے دعوی کیاہے کہ ان کے کمانڈر مولانا ہجرت اللہ کو پیر بابا کے مقبرے کے احاطے میں دفن کر دیا گیا تھا
،تصویر کا کیپشنطالبان نے دعوی کیاہے کہ ان کے کمانڈر مولانا ہجرت اللہ کو پیر بابا کے مقبرے کے احاطے میں دفن کر دیا گیا تھا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے ترجمان اکرم اللہ مہمند نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خیبر ایجنسی میں سربراہ اور اہم کمانڈر مولانا ہجرت اللہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے پہلے صوبہ سرحد میں پولیس ذرائع نے کہا تھا کہ مولانا ہجرت اللہ ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے تھے تاہم اب تک طالبان نے ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔

اب مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے ترجمان اکرم اللہ مہمند نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چند ماہ قبل سکیورٹی اہلکاروں نے مولانا ہجرت اللہ کو گرفتار کر نے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔

طالبان ترجمان نے دعوی کیا کہ مولانا ہجرت اللہ اور ایک اور کمانڈر مولوی عربستان کو تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں نہیں بلکہ تشدد کر کے ہلاک کیا گیا اور تھانہ یکہ توت پشاور کے اہلکاروں کی مدد سے ان کی لاشوں کو مشہور صوفی شاعر عبد الرحمان بابا کے مقبرے میں سپردخاک کردیا گیا۔(رحمان بابا کے مقبرے کے احاطے میں اکثر لاوارثوں کو دفنایا جاتا ہے)۔

ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ طالبان نے اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے بدلے میں مہمند رائفلز ٹو کے دو سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کردیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہمند رائفلز کے مزید چار اہلکار ان کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا تو یرغمالی اہلکاروں میں سے روزانہ ایک کو ہلاک کیا جائے گا۔

تاہم طالبان ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وقت ان کے کتنے ساتھی حکومت کی حراست میں ہیں۔

دوسری طرف پشاور میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر مولانا ہجرت اللہ پشاور میں ساتھیوں سمیت ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

مولانا ہجرت اللہ عرف مصطفٰی کامران افغان شہری بتائے جاتے ہیں۔ وہ خیبر ایجنسی میں تحریک طالبان کے اہم کمانڈر تھے اور ان کا شمار طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے اہم ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

مولانا ہجرت اللہ افغانستان میں سابق طالبان دور میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع افغان صوبہ ننگرہار میں ضلع خیوا کے ضلعی سربراہ رہے تھے۔ طالبان کمانڈر پر الزام تھا کہ وہ پشاور میں اتحادی افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں کے اڈوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔