پندرہ لاکھ پناہ گزین: اقوامِ متحدہ

پناہ گزین
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے
وقت اشاعت

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ پاکستان کے شمال مشرق علاقے میں لڑائی کی وجہ سے صرف مئی کے مہینے میں پندرہ لاکھ کے قریب افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

ادارے نے پاکستان فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی سے متاثر ہونے والوں کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع جہازوں کے ذریعے پاکستان امداد پہنچانے پر غور کر رہا ہے۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار کے مطابق وہ حکومتِ پاکستان سے باقاعدہ درخواست کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے بعد حلال خوراک، پانی کے ٹرک اور ٹینٹ بھیجے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ اس لڑائی میں 1994 میں روانڈا میں ہونے والی لڑائی کے بعد ہجرت کرنے والے لوگوں سے زیادہ افراد نے ہجرت کی ہے۔

مردان کیمپ
،تصویر کا کیپشنابھی تک صرف بیس فیصد کے قریب لوگ کیمپوں میں رہ رہے ہیں

یو این ایچ آر سی کے ترجمان ران ریڈمنڈ نے کہا ہے کہ امدادی کارکنوں کے لیے بے گھر ہونے والے افراد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنا دشوار ہے۔

یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ اقتصادی طور پر مشکل دور ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس عالمی برادری کی، جس نے مالی نظام کو بچانے کے لیے اربوں حاصل کیے ہیں، ذمہ داری ہے کہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرے۔‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق پندرہ سے بیس فیصد پناہ گزین اس وقت کیمپوں میں ہیں جبکہ باقی یا تو اپنے رشتہ داروں، برادریوں کے ساتھ رہ رہے ہیں یا پھر کرائے کے گھروں میں یا کہیں اور۔

اس سے قبل صوبہ سرحد کےریلیف کمشنر جمیل امجد نے بھی بی بی سی کو بتایا تھا کہ بیس فیصد کے قریب افراد کیمپوں میں پہنچ رہے ہیں جن کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے جبکہ اسی فیصد افراد اپنے رشتہ داروں کے پاس یا کہیں اور جا رہے ہیں۔