پیسہ کمانے کے لیے جعلی قبریں

قبرستان
،تصویر کا کیپشننئے قبرستان میں جب کچھ قبروں کی کھدائی کی گئی تو قبریں اندر سے خالی نکلیں
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک ایسا قبرستان ہے جہاں مبینہ طور پر پیسہ کمانے کے لیے کئی جعلی قبریں تیار کی گئی ہیں۔

یہ قبرستان پاکستان اور بھارت کی سرحد واہگہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہربنس پورہ کے علاقے میں واقع ہے۔ اس قبرستان کے لیے گزشتہ سال اراضی الاٹ کی گئی تھی تاکہ اس جگہ پر اُس قبرستان کی میتوں کو منتقل کیا جائے جس کی اراضی رنگ روڈ نامی ایک تعمیراتی منصوبے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔

صوبائی حکومت اور علاقے کے رہائشیوں کے درمیان یہ طے پایا کہ پرانے قبرستان کو مسمار کرنے سے پہلے وہاں سے میتوں کو متبادل قبرستان منتقل کیا جائے گا جس کے بعد مارچ کے مہینے سے میتوں کی منتقلی کا کام شروع ہوگیا۔

علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسمار کیے جانے والے قبرستان میں ان لوگوں کی قبریں بھی تھیں جو تقسیم ہند کے وقت بھارتی شہر امرتسر سے لاہو آتے ہوئے ٹرین میں قتل کر دیےگئے تھے۔

میتوں کو ایک قبرستان سے دوسرے قبرستان منتقل کرنے والے ایک مزدور اصغر نے منگل کے روز مقامی ٹی وی چینل کی دفتر فون کیا اور یہ اطلاع دی کہ جہاں میتوں کو پرانے قبرستان سے نئے قبرستان منتقل کیا جارہا ہے وہاں اصل قبر کے ساتھ نقلی قبریں بھی تیار کی ج رہی ہیں تاکہ حکومت سے ان قبروں کی رقم بھی موصول کی جائے جن کا وجود ہی نہیں ہے۔

ٹی وی چینل کا عملہ اس مزدرو کی اطلاع پر ہربنس پورہ کے علاقے پہنچا اور اس نے نئے قبرستان میں جب کچھ قبروں کی کھدائی کی تو قبریں اندر سے خالی نکلیں۔

مزدور اصغر نے بتایا کہ اصلی قبروں کے ساتھ ساتھ جو نقلی قبریں بنائی گئی ہیں ان کی تعداد پانچ سوکے لگ بھگ ہے۔ مزدور کے مطابق جن میتوں کی منتقلی کے وقت ان کے وارث موقع موجود ہوتے ہیں ان کی دوبارہ تدفین ہوجاتی ہے۔ جبکہ لاوارث میتوں کی ہڈیاں کئی حصوں میں بانٹ کر جعلی قبروں میں ڈال دی جاتی ہیں ۔اصغر نے بتایا کہ وہ خوف کی وجہ سے اس معاملے پر خاموش رہے۔

میتوں کو متبادل قبرستان میں لانے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کے ڈرائیور محبت علی کے بقول روزانہ بیس کے قریب میتوں کو متبادل قبرستان میں منتقل کیا جاتا ہے۔

ادھر حکومت نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ڈی سی او سجاد بھٹہ کے بقول کمیٹی چار دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ڈی سی او لاہور کے مطابق میتوں کو مبتادل قبرستان میں منتقل کرنے والے ٹھیکیدار نے اپنے دو ساتھیوں کو نکال دیا تھا جنہوں نے اب یہ الزام عائد کیا ہے کہ ٹھیکیدار نے نقلی قبریں تیار کرکے ان کی رقم بھی موصول کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میتوں کو ان کے لواحقین کی موجودگی میں متبادل قبرستان میں منتقل کیا گیا ہے تاہم جو نقلی قبریں تیار کرنے کا الزام لگایا گیا اس کی چھان بین کی جائے گی۔