پاکستان کے لیے دس کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد

امریکہ شمال مغربی علاقوں سے بے گھر ہو کر آنے والے افراد کی دیکھ بھال کے لیے حکومتِ پاکستان کو 110 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد بھیج رہا ہے۔
اس امدادی پیکج کا اعلان امریکہ کی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے واشنگٹن میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ طالبان اور پاکستانی فوج کے درمیان لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے۔
اس امدادی رقم سے پناہ گزینوں کے لیے بجلی پیدا کرنے والے جینریٹرز، ٹینٹ، پانی کے ٹرک اور خوراک حاصل کی جائے گی۔
ابتدائی 26 ملین ڈالر فوری طور پر پاکستان کی منڈیوں سے گندم اور دیگر خوراک خریدنے میں صرف ہوں گے۔
نامہ نگاروں کے مطابق اس امدادی پیکج کا اعلان واشنگٹن کی پاکستان کے متعلق اس نئی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ طالبان کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ہے۔
ہلری کلنٹن نے کہا کہ ’ہمارے رہنما اصولوں میں سے ایک ہے کہ یہ امداد محض اشیاء کی ترسیل نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس سرمایہ کاری کا فائدہ پاکستان کے لوگوں کو ہونا چاہیئے، اس لیے ہم مقامی طور پر گندم کی غیر معمولی فصل خریدیں گے اور تیزی سے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دیں گے تاکہ پاکستانی اپنے ہم وطنوں کے لیے چیزیں بنائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہلری کلنٹن نے کہا کہ یہ امدادی پیکج اس امداد کے علاوہ ہے جو پاکستان کانگریس سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گزشتہ اگست سے لے کر ابتک امریکہ پہلے ہی پاکستان کو ساٹھ ملین ڈالر دے چکا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گزشتہ تیس سالوں سے پاکستان کے متعلق امریکی پالیسی بے ربط تھی۔
انہوں نے طالبان کے خلاف پاکستان فوجی کی کارروائی کو سراہا اور کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حوصلہ ہوا ہے کہ پاکستان کے عوام کی سوچ میں بھی ایک تبدیلی آئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا تھا کہ پاکستان کے شمال مشرق علاقے میں لڑائی کی وجہ سے صرف مئی کے مہینے میں پندرہ لاکھ کے قریب افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔
ادارے نے پاکستان فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی سے متاثر ہونے والوں کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔






















