جنوبی وزیرستان میں صف بندی شروع

طالبان
،تصویر کا کیپشنڈھائی ہزار کے لگ بھگ طالبان جنگجوؤں کی تعیناتی مختلف علاقو ں میں کردی گئی ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی نظریں مالاکنڈ ڈویژن میں جاری فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں بے گھر افراد کی آبادکاری اور مشکلات پر مرکوز ہیں، جنوبی وزیرستان میں بڑی خاموشی کے ساتھ ایک نیا منظر نامہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔

اس منظر نامہ میں جنوبی وزیرستان میں ممکنہ فوجی آپریشن کے حوالے سے طالبان اور فوج کی تیاریاں، شدت پسندوں کی نئے سرے سے صف بندی اور ممکنہ کارروائی کے خوف سے سینکڑوں لوگوں کی نقل مکانی شامل ہے۔

اگر چہ ابھی تک سرکاری طور پر جنوبی وزیرستان میں باقاعدہ فوجی کارروائی کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے مگر چند دن قبل عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کے ساتھ ہونے والے ایک انٹرویو میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ وزیرستان میں بھی کارروائی کی جائے گی اس جانب ایک اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

آصف علی زرداری کے اس بیان سے قطع نظر جنوبی وزیرستان میں طالبان اور فوج کی خاموشی کے ساتھ اپنی اپنی قوت میں اضافے اور پوزیشنیں مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ممکنہ فوجی کارروائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت نے محسود علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے ضلع ٹانک سےچند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈبری میں ایک کیمپ قائم کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دی ہے۔

ایک اعلٰی حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ڈھائی لاکھ افراد کے لیے ڈبری کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک کیمپ قائم کردیا جائے گا۔

مقامی لوگوں سے جو معلومات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق طالبان اور فوج کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے محسود قبیلے کے سینکڑوں لوگوں نے ابھی سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ سرکاری اہلکار کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں تقریباً سات سو افراد صرف جنڈولہ کے راستے ٹانک اور دیگر علاقوں کی طرف گئے ہیں۔ لیکن دوسرے راستوں سے ان کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔

شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے تین طالبان دھڑوں پر مشتمل شوریٰ اتحاد مجاہدین نے بھی گیارہ مئی کو جو پمفلٹ جاری کیا تھا اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ فوج نے ملا نذیر اور بیت اللہ محسود کے زیر کنٹرول علاقوں میں تیاریاں تیز کردی ہیں جو بقول ان کے ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ ملانذیر، بیت اللہ محسود اور حافظ گل بہادر نے یہ پمفلٹ ایک اجلاس کے بعد جاری کیے۔ اسی روز اس مقام کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جہاں پر طالبان قائدین نے اجلاس کیا تھا۔ اجلاس دو بجے دوپہر ختم ہوگیا تھا جبکہ حملہ تقریباً تین بجے ہوا تھا۔

پمفلٹ میں دس روز کے اندر ڈرون حملے روکنے، پاکستانی فوج کے علاقے سے نکلنے اور مہینے میں دو دفعہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں سے فوجی قافلہ گزارنے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی تھی۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشن تین طالبان دھڑوں پر مشتمل شوری اتحاد مجاہدین نے جو پمفلٹ جاری کیا تھا اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ فوج ان کے ساتھ کیے گیے معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

مقامی اور طالبان ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج مکین میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہے ہیں اور طالبان سامنے کے پہاڑ میں سرنگیں کھود رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس قسم کی تیاریاں غوٹ سر، خیسور اور دیگر علاقوں میں بھی دیکھی گئی ہیں۔ طالبان نے اپنی افرادی قوت میں اضافے کے لیے کرم، خیبر اور اورکزئی ایجنسی کے کمانڈر حکیم اللہ محسود کو جنوبی وزیرستان واپس بلالیا ہے۔ ان کی سربراہی میں تقریباً پینتیس گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں شامل ڈھائی ہزار کے لگ بھگ طالبان جنگجو دو دن پہلےمحسود علاقے پہنچ چکے ہیں۔ ان کی تعیناتی بھی مختلف علاقو ں میں کردی گئی ہے۔

مقامی اور سرکاری ذرائع کی فراہم کردہ معلومات سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ طالبان ممکنہ فوجی کارروائی میں بیت اللہ محسود کے مخالف عبداللہ محسود گروپ کو شاید فرنٹ لائن فورس کے طور پر استعمال کیا جائے۔

اس گروپ کی سربراہی قاری زین الدین کر رہے ہیں جنہیں اس سے قبل ملا نذیر نے بیت اللہ محسود کی مخالفت میں شکئی کے علاقے میں پناہ دی تھی کیونکہ ملانذیر کا الزام تھا کہ بیت اللہ محسود نے ان کے ازبک مخالفین کو پناہ دے رکھی ہے۔ شوریٰ اتحاد مجاہدین کے بعد ملا نذیر نے قاری زین الدین سے ہاتھ کھینچ لیا اور وہ بیت اللہ محسود کے دوسرے قبائلی حریف اور بیٹینی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ترکستان بیٹنی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا اور ان کے علاقے کڑی وام کو اپنا مرکز بنا لیا۔

انہوں نے ٹانک اور دیگر علاقوں میں بیت اللہ محسود کے ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردی ہے جس میں انہوں نےصرف ایک ماہ کے دوران بیت اللہ محسود کے اٹھائیس کے قریب ساتھیوں کو قتل کردیا اور ان میں سے بعض کی انہوں نے میڈیا پر ذمہ داری بھی قبول کرلی۔ جواب میں ان کے بھی کئی ساتھیوں کو مارا گیا۔

ترکستان بیٹنی اور قاری زین الدین کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر ساڑھے تین سو کے قریب جنگجو ہیں لیکن اگر کسی قسم کی کارروائی ہوتی ہے تو جس طرح ملانذیر کی قیادت میں ازبک جنگجوؤں کے خلاف اچانک پنجابی طالبان کے نام سے ایک قوت ابھر کرسامنے آئی تھی ممکن ہے اس بار طالبان کے حلیوں میں’بھائی جان گروپ‘ کے نام سے کوئی فورس سامنے آجائے۔