لوئر دیر: کپتان سمیت تین فوجی ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع لوئر دیر میں حکام کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ واقعات میں فوج کے کپتان سمیت تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں جبکہ جوابی حملے میں چار عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
دیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پہلا واقعہ پہاڑی علاقے میدان میں شاہی کوٹو کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کو نامعلوم ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
دیر پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ حملے میں فوج کے ایک کپتان سمیت دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے ایک اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کے تازہ دستے میدان کی طرف پیش قدمی کررہے تھے۔
اس سے قبل میدان قمبڑ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مایبن ہونے والی ایک جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی حملے میں چار عسکریت پسند مارے گئے۔
دو دن قبل سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ دیر لوئر کے علاقے میدان کو شدت پسندوں سے صاف کرکے وہاں مکمل کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔
ادھر لوئر دیر کے صدر مقام چکدرہ اور مالاکنڈ ایجنسی میں گزشتہ نو دنوں سے بدستور کرفیو نافذ ہے جس سے علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی شدید قلت ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرفیو کی وجہ سے تمام بازار اور تجارتی مراکز پچھلے ایک ہفتے سے بند پڑے ہیں جبکہ ضلع بھر میں گاڑیوں کی آمد ورفت بھی کئی دنوں سے معطل ہے۔


















