’بیان عدالت کو کمزور کرنے کے مترادف‘

وزیراعظم
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نے کہا تھا کہ انتخابی اہلیت کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا
وقت اشاعت

شریف بردران کی اہلیت کے بارے میں نظرثانی کی درخواستوں میں بنائے گئے فریق خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ شریف برادران کو نااہل قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں وزیر اعظم کا بیان عدالت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

جمعرات کو نظرثانی کی ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا میں یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ عدالتی فیصلے حکومتی خواہشات کے مطابق ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچیس فروری کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا تو اُس فیصلے کے بارے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔

درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کو اتنی دیر نہیں ہونی چاہیے تھی اور نظر ثانی کی ان درخواستوں کی سماعت بھی اُسی بینچ کو کرنی چاہیے تھی جس نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا۔

احمد رضا قصوری نے کہا کہ نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل میں سپریم کورٹ کی روایات کو مدنظر نہیں رکھا گیا جس پر بینچ کے سربراہ تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ عدالتی پیرامیٹرز کو بہتر انداز میں جانتا ہے۔

احمد رضا قصوری نے کہا کہ اُن کا مؤکل اگرچہ میاں شہباز شریف کے انتخابی حلقے سے متاثرہ فریق نہیں تھے لیکن انہوں نے ایک شہری ہونے کے ناطے شریف بردران کے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ شریف بردران نہ تو الیکشن ٹربیونل کے سامنے پیش ہوئے نہ ہی لاہور ہائی کورٹ اور نہ ہی سپریم کورٹ میں جبکہ اس ضمن میں اُنہیں نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ آئین کے مطابق ایک شخص ایک وقت میں ایک ہی نشست رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی اڑتالیس بھکر سے میاں شہباز شریف کی کامیابی کا نوٹیفکیش تین جون دو ہزار آٹھ کو جاری ہوا تھا جبکہ پی پی 10 راولپنڈی سے اُن کی کامیابی کا نوٹیفکیشن اکیس جون دو ہزار آٹھ کوہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف نے کافی دن گُزرنے کے بعد پی پی 10 کی نشست خالی کی تھی۔ میاں شہباز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خرم شاہ کو اگر اُن کے مؤکل کے بارے میں کوئی معلومات حاصل تھیں تو وہ ان کو الیکشن کمیشن کو دے سکتے تھے۔ لیکن وہ براہراست لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر نہیں کر سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ خُرم شاہ نہ ہی اُس حلقے کا ووٹر ہے جہاں سے میاں شہباز شریف نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور نہ ہی اُن کے خلاف انتخابات میں مخالف اُمیدوار تھا۔انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار الیکشن ٹربیونل کا ہے نہ کہ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل آغا طارق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاق نظرثانی کی درخواستوں میں اس لیے سپریم کورٹ میں آئی کیونکہ اُسے ان درخواستوں میں فریق بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز پہلے وفاق میں حکومت کی اتحادی تھی اور وہ جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے اس لیے انہوں نے شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ اب شریف برادران خود بھی سپریم کورٹ میں آگئے ہیں اس لیے وفاق کی طرف سے دائر درخواست کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے۔ عدالت نے شریف برادران کی اہلیت اور طیارہ سازش کیس میں میاں نواز شریف کو سندھ ہائی کورٹ سے ملنے والی سزا کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت پچیس مئی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ خُرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے بدھ کے روز عدالت میں ایک الگ درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ طیارہ سازش کیس میں نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ اُس وقت تک نہ سُنایا جائے جب تک وہ معافی نامہ عدالت میں پیش نہیں جاتا جس میں میاں نواز شریف کو ملنے والی سزا کو سابق صدر رفیق تارڑ نے معاف کردیا تھا۔