دل جیتنے کی جنگ بھی جاری ہے

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
سن دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے لائے گئے چند زخمی فوجیوں کے انٹرویو کی غرض سے پشاور کے سب سے بڑے عسکری ہسپتال پہنچا تو فوجیوں نے دھر لیا۔ چار گھنٹے تک آئی ایس آئی، ایم آئی اور ہسپتال انتظامیہ نے پوچھ گچھ کی جس کے بعد کیمرے کی تصاویر اور ریکارڈنگ تلف کر دیں۔
آج صبح پاکستانی نجی چینلز پر مالاکنڈ کے زخمی فوجیوں کی حالت اور خیالات پر مبنی رپورٹیں دیکھ کر دکھ بھی ہوا اور خوشی کا احساس بھی۔ افسوس اس بات کا کہ جب ہم یہ کہانی کرنے لگے تو تفتیش کرنے والی فوجی اہلکاروں نے معلوم نہیں کیا کیا الزامات عائد کیے اور مسرت اس بات پر کہ چلیں بدیر آید درست آید۔ اس وقت ملک میں جاری جنگ میں فوجیوں کے بلند عزم اور حوصلے کے بارے میں صحیع معلومات کی لوگوں کو دکھانے کی ضرورت تسلیم کر لی گئی ہے۔
اس مرتبہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا ایک عنصر جو ماضی کے آپریشنوں سے مختلف ہے وہ یہی ہے کہ فوج کے لیے عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ایک باضابطہ مہم پاکستانی میڈیا پر جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ تاہم اب تک کی کارروائی کی متفقہ طور پر قومی فرض سمجھ کر حمایت کر رہا ہے۔ زخمیوں کے علاوہ پہلی مرتبہ کارروائی میں جانیں دینے والے فوجی افسران کی تدفین بھی براہ راست دکھائی جا رہی ہے۔
سوات کے امن معاہدے کے بعد اپنا اثر و رسوخ دیگر علاقوں تک پھیلانے میں طالبان کی غلطی کو شدت پسندوں کے خلاف اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ فوجی کارروائی پر تو اکثریت کی ایک رائے ہے لیکن ابھی تک پاکستانی میڈیا میں شدت پسندوں کے لیے ایک مخصوص نام پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ کوئی انہیں طالبان، کوئی انتہا پسند اور بعض ایک انہیں دہشت گرد بھی کہہ کر پکارتے ہیں۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے ایک تجزیے کے مطابق ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون کے مصنف نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت اور میڈیا نے ابھی تک اپنے دشمن کے لیے متفقہ نام ہی نہیں رکھا ہے۔ سرکاری ٹی وی شدت پسندوں کا ایک عجیب سا ترجمہ استعمال کر رہے ہیں جبکہ ایک اردو چینل ایسا لفظ استعمال کر رہا ہے جس کا مطلب مزاحمت کار ہے۔ دوسری جانب مقامی سطح تک محدود سہی لیکن کامیابی سے ایف ایم ریڈیو کو حکومت مخالف پروپیگنڈا اور علاقے پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت اس مرتبہ ٹی وی چینلز پر 'وسیع تر عوامی مفاد میں‘ بیس سیکنڈ کے اشتہار میں حکومت قرآنی آیات کے ذریعے بھی طالبان کو فسادی عناصر کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اس سے قبل سوات کے ایک مقامی اخبار میں ریگولیٹری ادارے پمرا کی جانب سے ایک اشہار شائع کیا گیا جس میں عوام کو غیرقانونی کیبل آپریٹرز اور ایف ایم چینلز کی نشاندی کی اپیل کی تھی۔
فوجی حکام نے اگرچہ اپریل کے اختتام پر شدت پسندوں کے غیرقانونی ریڈیو چینلز بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کے بعد بھی بعض اخبارات نے طالبان رہنما شاہ دوران کے چینل کے سنے جانے کی خبریں دی ہیں۔ ماہرین کے خیال میں متاثرہ علاقوں میں ان ریڈیو چینلز کی بندش کے بغیر حکومت پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکے گی۔
حکومت اور فوج کی ترجیح کیا ہے اس کا مظہر یہ فیصلہ بھی ہے کہ اب تک صرف قومی میڈیا کو جنگ زدہ علاقوں تک فوج رسائی دے رہی ہے۔ انہیں دوروں میں ساتھ لے جایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی متعدد بار کی جانے والی درخواستوں زیر التوا رکھا جا رہا ہے۔ قومی میڈیا کو ترجیح کا مقصد بظاہر پاکستانی عوام تک اپنا پیغام پہنچانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میڈیا پر اس مرتبہ کی خصوصی توجہ کی وجہ گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا وہ بیان بھی ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اور پاکستان میڈیا کی جنگ ہار رہے ہیں۔ پھر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں محض میدان جنگ میں کامیابی نہیں چاہیے عوام کے دل بھی جیتنے ہیں۔






















