مہمند: طالبان کمانڈر نے ہتھیار ڈال دیے

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنمقامی ذرائع کے مطابق کمانڈر کا شمار تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام نے بتایا ہے کہ تحریک طالبان کے ایک کمانڈر نے اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر خود کو پولیٹکل انتظامیہ کے حوالے کردیا ہے۔

مہمند ایجنسی کے ایک اعلٰی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ایک اہم کمانڈر یار سید عرف چکر نے جمعرات کو صافی قبیلے کے ایک جرگہ کے ہمراہ اعلٰی پولیٹکل حکام سے ملاقات کی اور اپنے پانچ ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر خود کو انتظامیہ کے حوالے کیا۔

اہلکار نے بتایا کہ کمانڈر نے انتظامیہ اور جرگہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ حکومت کے وفادار رہیں گے اور طالبان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمانڈر کے علاوہ ان کے پانچ ساتھیوں عثمان، گل زمین، محمد اسحاق، طارق اور حسن شاہ نے بھی ہتھیار ڈال کر حکومت کی وفاداری کا اعلان کیا ہے۔ پولیٹکل اہلکار نے بتایا کہ بعدازاں صافی جرگہ کی ضمانت پر تمام جنگجوؤں کو رہا کردیا گیا۔

دریں اثناء بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمانڈر یار سید چکر نے کہا کہ وہ دو سال تک مہممند ایجنسی میں طالبان کے ساتھ رہے لیکن اس دوران عسکریت پسند جہاد کی بجائے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہے جس سے انہیں سخت اختلاف تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’جذبہ جہاد کے تحت طالبان تحریک میں شامل ہوئے تھے لیکن جب انہوں نے حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تو ان ہیں اس دن سے طالبان سے اختلاف پیدا ہوا۔‘

کمانڈر نے اس بات کی بار بار تردید کی کہ وہ کسی دباؤ کے تحت حکومت سے مل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے طالبان سے علیحدہ ہوئے اور حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں طالبان کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان کے ترجمان اکرم اللہ مہمند سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ کمانڈر یار سید چکر کا تعلق مہمند ایجنسی کے قندہارو قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان کا شمار تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے اہم کمانڈروں میں ہوتا تھا۔ اس سے پہلے بھی مہمند ایجنسی میں چند طالبان جنگجوؤں نے تحریک طالبان چھوڑ کر حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔