کالام: مقامی افراد، طالبان میں معاہدہ

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں کالام کے مقامی لوگوں اور طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد فریقین کے درمیان مفاہمت ہوگئی ہے اور تحریری معاہدے کے تحت کالام کے عوام بھاری اسلحہ طالبان کو فروخت کرنے کے پابند ہونگے۔
دوسری طرف مدین، کالام اور بحرین میں اشیائے خورد و نوش میں قلت کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں نے کرفیو کے احکامات کو توڑتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو دن قبل بدھ کو طالبان اور کالام کے مقامی لوگوں کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوئی جب طالبان نے ایک مقامی شخص مہر ربی سے بھاری اسلحہ ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے بقول مقامی شخص نے انکار کرتے ہوئے اپنی قوم کو خبر دی جس کے بعد ستر افراد کا ایک لشکر تشکیل دیا گیا جس کے بعد طالبان کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔
کالام کے ایک مقامی صحافی رحیم الدین صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ جھڑپ میں دو مقامی لوگ ہلاک ہوئے تاہم بحرین اور اتروڑ کے ایک جرگے نے فائر بندی کراتے ہوئے فریقین کا راضی نامہ کروایا۔ ان کے بقول تحریری معاہدے کے مطابق کالام کے لوگ یا تو اپنے پاس بھاری اسلحہ نہیں رکھیں گے یا وہ اس سے دوگنی قیمت پر طالبان کو فروخت کریں گے۔اس کے علاوہ کالام کے عوام طالبان کی جانب سے سرکاری املاک پر حملے یا ان پر قبضہ کرنے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
اس سلسلے میں طالبان کے ترجمان مسلم خان سے بات کی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ معمولی تنازعہ تھا جو اب حل ہوگیا ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
ادھر جمعہ کی نماز کے بعد مدین، بحرین اور کالام کے سینکڑوں لوگوں نے علاقے میں کرفیو کے نفاذ اور راستوں کی بندش کی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قلت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شامل ایک شخص عابد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں نے کرفیو کے احکامات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
ان کے بقول لوگوں نے ’آٹا دو یا راستہ دو‘ کے نعرے لگائے۔ ان کے بقول فوجی کارروائی کے دوران علاقے میں آٹا ناپید ہوگیا ہے جبکہ ضرورت کی باقی اشیاء بھی نہیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے حلقے سے منتخب ہونے والے رکنِ اسمبلی سید جعفر شاہ نے آٹے کے کئی ٹرک بھیجے تھے جنہیں فوج نے روک لیا ہے۔ ان کے مطابق فوج کا مؤقف ہے کہ یہ ٹرک آگے جاکر فتح پور کے مقام پر طالبان کے ہاتھوں لگ جائیں گے۔
یاد رہے کہ سوات میں فوجی کاروائی کی وجہ سے اب بھی وہاں پر لاکھوں لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں اور لوگوں کا کہنا ہے کہ خوردنی اشیاء اور دیگر ضروریات زندگی کی قلت کی وجہ سے حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















