وادی سوات میں سرنگیں اور بنکر

فوجی آپریشن کے دوران ان سرنگوں کا پتا چلا
،تصویر کا کیپشنفوجی آپریشن کے دوران ان سرنگوں کا پتا چلا
وقت اشاعت

مالاکنڈ آپریشن کے دوران فوج کو وادی سوات کی پہاڑیوں میں بنکر اور سرنگیں ملی ہیں جو طالبان نے سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر ایک لمبی لڑائی لڑنے کے لیے بنا رکھی تھیں۔

لمبی لمبی سرنگیں اور بنکر فوج نے جمعہ کو بی بی سی کی اسلام آباد میں نامہ نگار باربرا پلیٹ کو علاقے کے دورے کے دوران دکھائیں۔

<link type="page"><caption> مالاکنڈ آپریشن کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090522_swat_operation_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

فوج کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا کہ پہاڑی ڈھلوانوں اور چوٹیوں پر بنائے گئے یہ بنکر اور سرنگیں کسی بھی ممکنہ ہوائی حملے سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہو سکتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ وادئ سوات میں طالبان کے ان محفوظ ٹھکانوں پر قبضہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان دشوار گزار علاقوں میں پاکستان فوج کس قدر مہارت اور کامیابی سے آپریشن کر رہی ہے۔

علاقے کا دورہ کرنے والے نامہ نگاروں کا کہنا تھا کہ وہاں کسی شدید مسلح تصادم کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ فوج کے ایک ہزار کے قریب شدت پسندوں کے ہلاک کئے جانے کے دعوے کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔

بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بتایا کہ فوج کی کوشش ہے کہ پیوچار کے اردگرد کے پہاڑی سلسلے میں طالبان کو گھیر کر مار جائے۔

انہوں نے فوجی آپریشن کی رفتار پر اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تین اطراف سے علاقے کو صاف کرنا شروع کیا ہے اور اس پیش قدمی کی رفتار کافی تسلی بخش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک محتاظ اندازے کے مطابق یہ آپریشن تین ماہ تک جاری رہ سکتاہے۔ انہوں نے اس پورے علاقے کو ایک ایک انچ کر کے صاف کرنا ہے۔ہ فوج نے ابتدا میں جو اہداف مقرر کیئے تھے انہیں حاصل کرتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دشوار گزار علاقے میں کافی جنگلات ہیں اور خیال تھا کہ اس علاقے میں شدید مزاحمت ہو گی اور ہر درخت اور ہر پتھر کے پیچھے سے ان پر فائر ہو گا۔

انہوں نے کہا بشام سے اوپر شانگلہ ہے اور فوج شانگلہ سے ہوتی ہوئی پہاڑی سےنیچے آئی ہے اور خوازخیلہ کو صاف کرتے ہوئے انہوں نے آگے چارہ باغ کو بھی کلیئر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرف سے وہ مینگورہ کے مضافات تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سے یہ مالاکنڈ سے شروع ہو کر چکدرہ تک گئے ہیں اس کے آگے تیمرگرہ ہے اور اس طرف سے بھی یہ مینگورہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دریا کے دوسری طرف کبل اور قمبر دو اہم قصبے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دو جگہوں پر طالبان بڑی تعداد میں موجود تھے اور یہاں سول آبادی بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبل سے دائیں طرف ہوتے ہوئے یہ شاہ ڈیری پہنچیں گے اور شاہ ڈیری سے تیوچار میں جو فوج موجود ہے اس سے جا ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مینگورہ کو سب سے آخری میں خالی کرایا جائے گا تاکہ وہاں پر موجود آبادی جسے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے وہاں سے نکل جائے۔ اس کے بعد مینگورہ شہر میں گلی گلی اور محلے محلے میں کارروائی کی جائے گی اور طالبان کا صفایا کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فوج کی پوری کوشش ہے کہ طالبان اس نرغے سے نکلنے نہ پائیں۔

جنوبی وزیرستان میں شیلنگ کی اطلاعات پر انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ آپریشن شروع کرنے سے پہلے ایک دفاعی حکمت عملی بنائی گئی تھی تاکہ قبائلی علاقوں سے نکل کر طالبان یہاں نہ پہنچیں اور انہیں وہیں محصور کر کے رکھا جائے۔ بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ امکان ہے کہ ان علاقوں میں بھی فوجی آپریشن جلد شروع کیا جائے۔