پیٹرولیم قیمتوں میں کمی، توقع سے کم

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
حکومت نے جمعرات کی شب کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے پینتالیس پیسے کمی کا اعلان کیا ہے۔
تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی کو عوام اور ماہرین توقعات سے کافی کم قرار دے رہے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ وہ ملک کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے۔ یہ ہدایات انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دی تھی۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے واضح کیا تھا کہ اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے میں ناکام رہی تو پھر سپریم کورٹ اس بارے میں خود فیصلہ کرے گی جو ہوسکتا ہے کہ حکومت کو ناگوار گذرے۔
حکومت نے جمعرات کو ایک اعلان کے ذریعے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے پینتالیس پیسے کمی کی تھی۔ اس سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی گزشتہ برس دسمبر میں کی گئی تھی۔ تاہم اس کے بعد بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہوئیں تھیں۔
عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایات دی تھی کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے علاوہ قدرتی گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں بھی کمی کرے۔ تاہم ابھی اس بابت حکومت کی جانب سے کوئی کمی کا اعلان نہیں ہوا ہے۔
عدالت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں کمی کے حوالے سے جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس کی سربراہی میں بنائے جانے والے کمیشن سے کہا بھی تھا کہ وہ پندرہ جون تک اپنی جامع رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
اسلام آباد کی سڑکوں پر لوگوں کی رائے اس دو اشاریہ پانچ فیصد کمی کے بارے میں دریافت کیا تو ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ محمد اعظیم کا کہنا تھا کہ ایک روپے سے کیا فرق پڑے گا؟ ’ ایک روپے کی کوئی قدر نہیں رہی مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ غریب آدمی کے بس سے سب کچھ باہر ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور شہری کو شکایت تھی کہ تیل کی قیمت کم ہوجائے ٹرانسپورٹ کے کرائے تو کم نہیں ہوئے۔’حکومت ان کرائیوں کو بھی کم کرائے تو بات ہو۔ پاکستان میں بڑھی ہوئی قیمت کب کم ہوئی ہے؟‘ تاہم خالد خان پرامید تھے کہ یہ ڈیڑھ روپے کی کمی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا۔ ’ قوم کو یقینًا اس کا فرق جلد محسوس ہوگا۔‘ ماہر اقتصادیات اکبر زیدی کا کہنا تھا کہ اخبارات کی خبروں کے مطابق تو عوام دس سے بارہ روپے تک کمی کی آس لگائے بیٹھی تھی لیکن جس کمی کا اعلان ہوا ہے وہ ان توقعات سے بہت کم ہے۔
’عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جو چند ہفتہ قبل تک کم ہوئی تھیں یہ کمی اس کا عکاسی نہیں کرتی۔ یہ تو محض عدالت کو خوش کرنے یا دیکھانے کے لیےکی ہے۔ اس کا مجموعی منگائی کی صورتحال پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑےگا۔‘
معاشیات میں ایک رجحان عام ہے کہ قیمتی چڑھتی بہت تیزی سے ہیں لیکن ان میں کمی کا عمل بہت سست ہوتا ہے۔ اکبر زیدی کہتے ہیں کہ تیل کی قیمت میں اضافے سے جو اثر دیگر مصنوعات یا خدمات جیسے کہ کرائے پر پڑتا ہے اسے واپس کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ’ایندھن کی قیمت تو آپ اعلان سے کم کر دیں گے لیکن باقی چیزوں پر اس کا اثر ہونا مشکل ہوتا ہے۔‘
پاکستانی معشیت پہلے ہی کافی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ امن عامہ کی خراب صورتحال، زیادہ شرح سود اور شرح نمو کا دو فیصد ہونا ایسے دوسرے عناصر ہیں جنوں نے مل کر عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل ترین کر دی ہے۔






















