مینگورہ کے گلی کوچوں میں لڑائی

پاکستاني فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج سوات کے صدر مقام مینگورہ میں داخل ہو گئی ہے اور شہر کے گلي کوچوں میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپیں ہو رہي ہیں۔
فوج نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں طالبان کے اہم کمانڈر عثمان المعروف قصاب سمیت سترہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج نے ایک اور شدت پسند خورشید کوگرفتار کرلیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ مینگورہ کے گلی کوچوں میں لڑائی شروع ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مینگورہ شہر میں نشاط چوک پر جھڑپوں کے دوران ایک خود کش حملہ آور کو ہلاک جبکہ خود کش حملے میں استعمال ہونے والی بارورد سے بھری ایک گاڑی کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
مینگورہ کے مکینوں نے کہا ہے کہ مقامی طالبان شدید مزاحمت کر رہے ہیں اور شہر پر اب بھی انہیں کا کنٹرول ہے۔
پاکستان کی فوج نے پچھلے دو ہفتوں سے مینگورہ شہر کو گھیر رکھا ہے۔ فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دو مئی سے اب تک شدت پسندوں کے کئی بڑے اسلحہ خانوں کو تباہ کرچکی ہے اور شدت پسندوں کی سپلائی لائن کو کاٹ دیا گیا ہے۔
میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق مٹہ اور پیوچار کو ملانے والے راستے پر ونائے پل پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے اور شدت پسند اب چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق سوات اور ملحقہ علاقوں میں آپریشن شروع ہونے سے پہلے کل چار سے پانچ ہزار طالبان موجود تھے جن میں سے گیارہ سو کے لگ بھگ کو اس آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق طالبان کے حلیے میں جرائم پیشہ افراد اور وہ جنہیں حال ہی میں طالبان نے اپنی صفوں میں شامل کیا تھا وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ اس وقت پندرہ سو سے دو ہزار شدت پسند وہاں موجود ہیں جو فوج کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں اب تک ایک ہزار چورانوے شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انتیس کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں عرب، افغان اور وسطی ایشاء سے تعلق رکھنے والے شدت پسند شامل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ اس وقت بھی دس سے بیس ہزار شہری مینگورہ شہر میں موجود ہیں اور فوج کی یہ حتی الامکان کوشش ہے کہ شہریوں کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو لیکن چونکہ یہ جنگ ہے اس میں اس کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ شہریوں کا بالکل کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ سلطان واس پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے جبکہ خوازہ خیلہ کو شدت پسندوں سے بالکل صاف کر دیا گیا ہے اور اب نقل مکانی کرنے والے افراد خوازہ خیلہ جا سکتے ہیں۔
دریں اثناء تحریک طالبان کے ترجمان مسلم خان نے پشاور میں ہمارے ساتھی عبدالحئی کاکڑ سے کہا ہے کہ فوج نے قمبر پر کنٹرول حاصل نہیں کیا ہے بلکہ وہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں لیکن انہوں نے ہلاکتوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ مسلم خان کے مطابق حاجی بابا اور برائے بانڈہ میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ مٹہ میں تین فوجی گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
میجر جنرل اطہر عباس نے کہا تھا کہ قمبر میں شدت پسندوں نے اسلحہ ذخیرہ کر رکھا تھا اور یہاں سے لڑنے والے شدت پسندوں کو کمک فراہم کی جاتی تھی جس پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا سوات میں جاری آپریشن انتہائی مشکل ہے کیونکہ فوج کو گھرگھر کی تلاشی لے کر علاقے کو شدت پسندوں سے خالی کروانا ہے۔
مبصرین کے مطابق مينگورہ کا کنٹرول علاقے میں طالبان کے اثر کو ختم کرنے کےليے انتہائي اہم ہوگا اور فوجی آپریشن کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار بھی مینگورہ میں کامیابی پر ہو گا۔






















