اعتزاز احسن: مجلسِ عاملہ کی رکنیت

- مصنف, عباد الحق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
پاکستان پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ میں اعتزاز احسن کی معطل رکنیت کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور ان کی رکنیت قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد بحال ہوجائے گی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اسلام الدین شیخ کے بقول یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری اور اعتزاز احسن کے درمیان ملاقات کے بعد کیاگیا ہے۔ اعتزاز احسن نے بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور اعتزاز احسن کے درمیان معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہوگیا تھے اور اس سال فروری میں پارٹی قیادت نے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں اعتزاز احسن کی مجلس عاملہ کی رکنیت کو معطل کر دیا تھا۔
اعتزاز احسن وکلا تحریک کے نمایاں رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں۔ اعتزاز احسن نے پارٹی کی مجلس عاملہ سے معطلی کے بعد دوٹوک کہا تھا کہ کہ وہ نہ تو پارٹی چھوڑیں گے اور نہ ہی پارٹی سے علیحدہ ہونگے۔
سینیٹر اسلام الدین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے صدر آصف علی زرداری اور اعتزاز احسن کے درمیان ملاقات کے لیے کوشش کررہے تھے اور ان کی کاوشوں کے نیتجے میں جمعہ کی شب صدر زرداری اور اعتزاز احسن میں ملاقات ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بھی اس ملاقات میں شامل تھے اور رات گیارہ بجے کے قریب ہونے والی یہ ملاقات لگ بھگ تین گھنٹوں تک جاری رہی اور رات دو بجے ختم ہوئی۔ بقول ان کے ملاقات میں گلے شکوے اور غلط فہیماں دور ہوئیں ہیں۔ سینیٹر اسلام الدین شیخ کے مطابق ملاقات میں پنجاب کی سیاست پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ادھر بیرسٹر اعتزاز احسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی صدر آصف زرداری سے ملاقات کے دوران جو 'گپ شپ‘ ہوئی ہے اس میں ذاتی کی نوعیت کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ ان کے بقول ملاقات میں کئی موضوعات پر بات ہوئی تاہم ان کی مجلس عاملہ کی رکنیت کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کا کہنا ہے کہ ان کو میڈیا کے ذریعے اس ملاقات کے بارے میں معلوم ہوا ہے تاہم اعتزاز احسن کی مجلس عاملہ کی رکنیت کی بحالی کے بارے میں انہیں علم نہیں ہے اس ضمن میں جیسے ہی ہدایات موصول ہوگئیں تو نوٹیفکشن جاری کردیا جائےگا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی کہا کہ اعتزاز احسن کو صدر زرداری سے ملنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعتزاز احسن صوبائی وزیر اطلاعات کے علاوہ وفاقی وزیر قانون اور داخلہ بھی رہ چکے ہیں جبکہ انیس سو ترانوے میں رکن اسمبلی منتخب نہ ہونے پر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے انہیں سینیٹر منتخب کرایا تھا۔ سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں اعتزاز احسن نے وکلا قیادت کی فیصلہ کی روشنی میں سپریم کورٹ بار کے صدر ہونے کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ نہیں لیاتھا اور اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ اعتزاز احسن کو کوئی اہم ذمہ داری بھی دی جاسکتی ہے۔






















