نوکری گئی تو دبئی بھی گیا

دبئی میں  معاشی بحران کی واحد بڑی وجہ تعمیراتی شعبے میں آنے والا زوال ہے
،تصویر کا کیپشندبئی میں معاشی بحران کی واحد بڑی وجہ تعمیراتی شعبے میں آنے والا زوال ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
  • وقت اشاعت

ہندوستان کی ریاست گجرات کے گاؤں بہاولنگر کا سید تسلیم دبئی کے علاقے سونا پور کے ایک لیبر کیمپ میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا بنانے میں مصروف ہیں۔ ان کے دیگر ساتھی کچھ ہی دیر میں کام سے لوٹیں گے اور تیار کھانا دیکھ کر یقیناً بہت خوش ہوں گے۔ سید تسلیم آج کل ان کی خوشی میں ہی خوش ہیں۔ ان کی اپنی خوشی اس وقت سے روٹھ گئی جب پچھلے ہفتے انہیں کمپنی سے جواب مل گیا جہاں وہ پلمبر کی حیثیت سے دو برس سے ملازمت کر رہے تھے۔ کچن کے کام سے فارغ ہو کر تسلیم نے اپنی برطرفی کی وجہ بتائی۔

’کمپنی کا مینجر بول رہا ہے کہ ابھی سائیٹ پر کام نہیں ہے۔ جب ہوگا تو آپ کو بتا دیں گے۔ کمپنی کے سارے کام کا یہی حال ہے۔ ہر جگہ سے آدمی کم کر رہے ہیں۔‘

تسلیم نے بتایا کہ انہیں دو برس قبل اسی کمپنی نے ممبئی میں ایک انٹرویو کے بعد دبئی کے لیے منتخب کیا تھا۔’میں نے گاؤں کے لوگوں سے قرض لے کر تیس ہزار روپے کمپنی ایجنٹ کو دیے اور ان دو سالوں میں وہ سارا قرض میں نے اتار دیا ہے۔ لیکن اب تو میرے پیسے کمانے اور بچانے کے دن شروع ہوئے تھے کہ نوکری سے جواب مل گیا۔‘

<link type="page"><caption> دبئی چلو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/05/090523_dubai_chalo_part1_aw.shtml" platform="highweb"/></link>

اور جب آندھرا پردیش کے پرتاپ سنگھ نے اپنی آپ بیتی سنائی تو ایسا لگا کہ تسلیم تو بہت فائدے میں رہے۔ میں نے پرتاپ سنگھ کو دبئی کے زیرتعمیر علاقے برشا میں کھلے آسمان تلے ریت کے ٹیلے پر سوتے پایا۔ جگانے اور اپنا تعارف کروانے پر پرتاپ خوفزدہ ہو گئے اور بات کرنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر قریب میں کام کرنے والے کچھ مزدور مدد کو آئے۔

انہی کے ذریعے ٹوٹی پھوٹی ہندی میں پرتاپ نے بتایا کہ ان کے پاس رہنے کو گھر نہیں ہے کیونکہ تین مہینے سے انہیں کام نہیں ملا۔ ’بس کبھی یہاں سو جاتا ہوں کبھی اس ٹیلے پر۔ ایجنٹ اور یہاں پہچنے کے بعد کل ملا کر ایک لاکھ ستر ہزار خرچ ہو گیا۔ اور آٹھ مہینے میں ایک پیسہ گھر نہیں بھیجا۔‘ ریت میں گرمی نہیں لگتی، میرے اس سوال پر پرتاپ نے غصے سے میری جانب دیکھا اور کہا ’لگتی ہے گرمی۔ لیکن دبئی آیا ہوں نہ۔‘

تسلیم، پرتاپ، جونے واردھ، کاظم، سلیم ۔۔۔ دبئی کی تعمیر میں اپنا پسینہ بہانے والے کسی بھی مزدور سے بات کر لیں آج کل سب کی کہانی ایک سی ہے۔ کسی کی نوکری گئی، کسی کی جانے والی ہے اور کسی کو ملی ہی نہیں۔

دبئی میں آنے والے تعمیراتی بحران نے عرب امارات کی اس ریاست کی معیشت کو جو نقصان پہنچایا سو پہنچایا، اپنی جوانی اس ملک کی عمارتوں کی نذر کرنے والا مزدور اس عالمی اقتصادی بحران سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ ان مزدوروں کی کہانیاں اور دبئی سرکار کی جانب سے اس بارے میں بات کرنے سے انکار سن سن کر میں براہ راست پہنچا دبئی کی وزارت محنت کے دفتر جہاں اخبار پڑھ کر معلوم ہوا تھا کہ اس محمکے کے انچارج مزدوروں کے مسائل پرکھلی کچہری لگائیں گے۔ کھلی کچہری میں دور دراز ملکوں سے آئے مزدوروں کو امارات اور شاہی خاندان سے محبت کا درس دینے سے جب اس محمکے کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل ہمید بن دیماس فارغ ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ دبئی کی تعمیر میں اپنی جوانیاں برباد کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کو اتنی بے دردی سے ملازمتوں سے کیوں نکالا جا رہا ہے۔ پہلے تو انہوں نے بی بی سی کے مائیک اور میرے چہرے کو غصے سے دیکھا اور پھر گویا ہوئے۔ ’بحران؟ آپ بحران کی بات کر رہے ہیں اور ہم نے گزشتہ چھ ماہ میں چھ لاکھ نئی ملازمتیں غیر ملکیوں کو دی ہیں، اور اس دوران صرف چار سو لوگوں کے ویزے منسوخ ہوئے ہیں۔‘

لیکن غیر سرکاری اعدادو شمار کچھ اور ہی داستان سناتے ہیں۔ اور یہ غیر سرکاری اعداد و شمار حاصل کرنا بھی اطلاعات تک رسائی کو روکنے والے دبئی کے قوانین کی موجودگی میں خاصا جان جوکھوں کا کام ہے۔

لیکن دبئی امیگریشن میں ایک پاکستانی دوست اور دبئی کے مالیاتی بحران پر سرکار کو مشورے دینے والے ایک غیر ملکی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنوری سے اپریل کے آخر تک چھ لاکھ افراد دبئی سے واپس بھیجے جا چکے ہیں۔

نوکری کا جانا اور ساتھ ہی ویزے کی منسوخی، یہ کیا معاملہ ہے۔ یہ بات جب میں نے دبئی کی ایک غیر ملکی لاء فرم میں کام کرنے والے وکیل سرمد منٹو سے پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ دبئی کے قانون کے تحت اگر کسی ایسے فرد کی ملازمت ختم ہو جائے جو ورک ویزے پر دبئی آیا ہو تو وہ ویزا بھی نوکری کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ’یوں ہر ورکر پر قانوناً یہ پابندی ہے کہ وہ ملازمت ختم ہونے کے تیس دن کے اندر اندر دبئی سے چلا جائے اس کے بعد اس کا یہاں قیام غیر قانونی ہو گا۔‘ یعنی نوکری گئی تو دبئی بھی گیا۔

اسی دہری مصیبت کا شکار ہوئے محمد بشیر جو پچھلے ماہ تک دبئی کی ایک تعمیراتی کمپنی میں سائیٹ انجینئر تھے برطرفی کے بعد ان کے پاس کل تیس دن ہیں، جن میں سے آدھے نوکری کی تلاش میں سرف ہو چکے ہیں لیکن برطرفیوں کے موسم میں نئی نوکری کہاں سے ملے۔ محمد بشیر کہتے ہیں کہ درخواستیں دے دے کر تھک گئے لیکن جواب نہیں آیا۔

’میں نو سال سے دبئی میں ہوں اور اس دوران متعدد کمپنیاں تبدیل کر چکا ہوں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ دو ہفتے سے زائد ہو گئے روز اخبار دیکھ کر درخواست دیتا ہوں لیکن کوئی انٹرویو کے لیے بھی نہیں بلاتا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ درخواست بھیجی ہو اور کال لیٹر نہیں آیا۔‘

’جنوری سے اپریل کے آخر تک چھ لاکھ افراد دبئی سے واپس بھیجے جا چکے ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’جنوری سے اپریل کے آخر تک چھ لاکھ افراد دبئی سے واپس بھیجے جا چکے ہیں‘

ایسا نہیں ہے کہ صرف تعمیراتی شعبے سے منسلک افراد ہی اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔ دبئی کے ایک بینک کے مینجر علی حسن کے مطابق بیروزگاری کا یہ جِن دبئی کے ہر شعبے پر حاوی ہو رہا ہے۔

’دبئی کے بینکوں سے دس فیصد کے قریب ملازم نکالے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں، سیر گاہوں اور دیگر تفریحی مقامات پر بھی چھانٹی ہوئی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ابھی مزید پانچ فیصد ملازمتیں ختم ہوں گی جس کے بعد ان شعبوں میں کچھ ٹھہراؤ آئے گا۔‘

یہ تو بات ہوئی بیروزگار ہونے والے ان غیر ملکیوں کی جن میں سے بعض اپنی جوانیاں اور بیشتر اپنے خواب یہیں چھوڑ کر اپنے اپنے دیس کو روانہ ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں۔ لیکن اب بھی بہت سے ایسے ہیں جن کا رزق ابھی یہاں سے اٹھا نہیں ہے۔ اس معاشی بحران میں ان کے لیے دیار غیر میں زندگی کے دن کیسے تنگ ہو رہے ہیں اس کاحال پڑھیےگا ’دبئی چلو‘ کی تیسری قسط میں۔