’پاکستان پرامریکہ کی کوئی پالیسی نہیں‘

امریکہ کی افغان اور پاکستان پالیسی میں تضاد ضرور ہے
،تصویر کا کیپشنامریکہ کی افغان اور پاکستان پالیسی میں تضاد ضرور ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

امریکہ اور برطانیہ جیسے اہم مغربی ممالک میں طویل عرصے تک پاکستان کی سفیر رہنے والی ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے پاس پاکستان سے متعلق کوئی مخصوص پالیسی نہیں ہے اور وہ اسے بھی افغانستان کے تناظر میں دیکھ اور پرکھ رہی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سابق صحافی اور سفارت کار کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان کو مرکز میں رکھ کر امریکہ اس کے استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے کوئی پالیسی تیار نہیں کرے گا مثبت نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ’ایسے میں امریکہ کو ایسی پالیسی اپنانی پڑے گی جس میں پاکستان اور افغانستان دونوں مستحکم ہوں۔ ویسے بھی امریکی صدر نے کہا ہے کہ پاکستان زیادہ اہم ملک ہے تو اسے اسی تناظر میں اہمیت دی جائے۔ اسے افغانستان کے پس منظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔‘

ملیحہ لودھی کے مطابق امریکہ کی افغان اور پاکستان پالیسی میں تضاد ہے۔ ’اگر امریکہ، افغانستان میں میانہ رو طالبان سے مذاکرات کا حامی ہے تو اسے پاکستان میں بھی ایسا کرنا چاہیے۔ لیکن اگر آپ سوات امن معاہدے کی بات کریں تو اس پر تنقید نہ صرف باہر کی دنیا بلکہ پاکستان کے اندر بھی اتنی ہی شدید ہوئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوئی امن معاہدے کے خلاف نہیں ہے لیکن وہ کن شرائط کے تحت مضبوط پوزیشن سے ہوا یا نہیں یہ زیادہ اہم ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن میں موجودہ سرکاری حکمت عملی کے بارے میں ملیحہ لودھی کا مؤقف تھا کہ یہ پاکستانی پالیسی پر پاکستانی طریقہ کار سے عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستانی مقاصد کے لیے ہے۔

انہیں قدرے شکایت تھی کہ ’اس صورتحال کی اسی تناظر میں نشاندہی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے‘۔

سوات آپریشن میں بین الاقوامی دلچسپی ضرور ہے اور وہ اس بابت تشویش کا اظہار کرتے ہیں لیکن اصل وجہ اندرونی دباؤ اور وجوہات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ حکومت اب تک کئی ایسے اقدامات کرچکی ہے جن میں صدر کے امریکی دورے کے دوران فوجی کارروائی کے اعلان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ کارروائی بھی کسی اور کے کہنے پر ہو رہی ہے تو ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کے لیے یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے۔

’حکومت کو عوامی رائے کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ حمایت اسی طرح سے برقرار رہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فوجی کارروائی بھی اس طریقے سے ہو کہ عام شہریوں کی ہلاکت کم سے کم یا بہتر ہے کہ ہرگز نہ ہوں۔‘

تاہم پاکستان میں ایک انگریزی اخبار کی سابق مدیر کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی ضرورت نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کی مناسب دیکھ بھال ہے۔ ’یہ ایک موقع بھی ہے کہ ہم انسداد بغاوت کے خلاف ایک ایسا ماڈل بنا لیں جس میں سیاسی اتفاق رائے، عوامی حمایت اور فوجی طاقت کو شامل کرکے ایک نئی حکمت عملی تیار کی جاسکتی ہے۔‘

ان کا مؤقف تھا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہوگا کہ عوام کا اس پر مکمل اعتماد ہو کہ یہ پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک رائے یہ ہے کہ ملک میں بدامنی کی وجہ افغانستان ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں بظاہر پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کے تدارک کے لیے ڈاکٹر ملیحہ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں موجود پاکستانی نژاد امریکی برادری ایک بہت بڑا اور اہم اثاثہ ہے۔ ’میں نے ان کے بہت قریب ہو کر کام کیا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ ان کو لابی کرنی آتی ہے۔ ان کو متحرک کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔‘

اس بابت انہوں نے نوجوان لوگوں کا ذکر کیا جو کہ ان کے بقول کانگریس اور امریکی تھنک ٹینکس میں انتہائی اہم فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ’وہ ایسی جگہوں میں کام کر رہے ہیں جہاں سے امریکی رائے اور پالیسی کو اپنے فائدے کے لیے متاثر کیا جاسکتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ اس ساری صورتحال میں سب سے اہم پہلو کون سا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ انسانی پہلو ہے۔ ’نقل مکانی کرنے والوں کی دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ فوجی کامیابیاں حاصل کر بھی لیں لیکن اگر آپ ان متاثرین کے دل و دماغ نہیں جیت سکیں گے تو یہ آپریشن بےمقصد رہ جائے گا۔‘

ملیحہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا سوال حکومت کے سامنے یہ ہے جس کا جواب اس نے ابھی تک نہیں دیا ہے کہ فوج کے جانے کے بعد اس کی جگہ کون لے گا۔ ’وہاں کس قسم کا انتظامی اور سکیورٹی نظام قائم کیا جائے گا تاکہ لوگوں کو اعتماد ہو کہ یہ مسئلہ دوبارہ سر نہیں اٹھائے گا۔‘