شریف برادران،اہلیت کا فیصلہ

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنشہباز شریف کے نا اہلی کے فیصلے کے بعد پنجاب میں گورنر راج نافد کر دیا گیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے شریف برادران کی نا اہلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کو درست قرار دیا گیا تھا۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی طرف سے شریف براردران کی طرف سے عدالت میں پیش نہ ہونے پر دیا جانے والہ فیصلہ یکطرفہ تھا۔

پی ایم ایل کے حامی
،تصویر کا کیپشنعدالت کے فیصلے کے بعد مسلم لیاگ نواز کے کارکنوں نے جشن منایا

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ طیارہ سازش کیس میں میاں محمد نواز شریف کو جو صدر کی طرف سے معافی دی گئی تھی اُس کے متعلق ڈپٹی اٹارنی جنرل نے لاہور ہائی کورٹ میں اور اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں اس بات کو تسلیم کیاہے کہ صدر نے اُنہیں معافی دی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مختلف مالیاتی اداروں کے نادہندہ ہونے کے بارے میں کوئی دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر پاکستان مسلم لیگ نون کے حامیوں نے اپنی جماعت کے قائدین کے حق میں نعرے لگائے۔ واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 123 سے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے جنہیں ریٹرننگ افسر نے درست قرار دیا تھا۔ یہ نشست پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے خالی کی تھی۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے اسی حلقے میں اُن کے مخِالف اُمیداور نور الہی کی درخواست پر اُنہیں نا اہل قرار دیتے ہوئے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

اس سے پہلے جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے میاں شہباز شریف کی اہلیت سے متعلق نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت شروع کی اور اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچیس فروری کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میاں شہباز شریف کی بطور رکنیت ختم کرنے کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قواعد و ضٰوابط پر عمل درآمد نہیں کیا تھا جو کہ بہت بڑا قانونی سقم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کے خلاف جو فیصلہ دیا تھا وہ یکطرفہ فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میاں شہباز شریف عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تو رجسٹرا کو چاہیے تھا کہ انہیں نوٹس جاری کرتا۔ اگر وہ اس کے باوجود بھی حاضر نہ ہوتے تو ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ دیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہباز شریف کی اہلیت کے متعلق جو درخواست تھی اسے اپیل میں تبدیل کر کے میاں شہباز شریف کی حکومت کو ختم کرنا عدالتی قواعد و ضوابط اور قانون کے مطابق نہیں تھا۔ اس سے پہلے ان درخواستوں میں بنائے گئے خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اُن کے موکل انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے تھے لیکن وہ ایک عام شہری کی حثیت سے کسی بھی اُمیداور کے بارے میں عدالت میں درخواست دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 16 مارچ کو افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر معزول ججوں کی بحالی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میں شہباز شریف نے اپنی اہلیت کے متعلق سپریم کورٹ کے 25 فروری کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی جس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 31 مارچ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے میں شہباز شریف کی حکومت کو 24 فروری کی پوزیشن پر بحال کردیا تھا۔

شریف بردران کی اہلیت کے متعلق گیارہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں تھیں ان میں وفاق ، میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف، میاں نواز شریف کے تجویز اور تائید کندہ، سپیکر پنجاب اسمبلی اور پنجاب حکومت کی درخواستیں شامل تھیں۔