سیاسی حلقے: عدالتی فیصلے کا خیر مقدم

سپاکستان میں سیاسی حلقوں نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو انتخاب میں حصہ لینے کے اہل قرار دینے کے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے ردِ عمل میں عدالتی فیصلے کو جمہوری قوتوں کی فتح قرار دیا ہے۔
مسلم لیگ قاف کے رہنما طارق عظیم نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام کو آزاد عدلیہ نے پہلا بڑا تحفہ دیا ہے اور سب کو اس فیصلے کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ان کے بقول نواز شریف کی نااہلیت کا فیصلہ عدالتی نہیں بلکہ سیاسی تھ۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قومی رہنما کو کسی سیاسی اختلاف کی بنا پر عدالتی فیصلے کے ذریعے سیاسی عمل سے باہر کرنے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی۔
پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے عدالتی فیصلے کو سراہا اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت مفاہمت کی پالیسی پر کاربند ہے اور ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے جس سے ملک میں اچھا ماحول پیدا ہو۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے عدالتی فیصلے پر تبصرے میں کہا کہ تسلسل کے ساتھ ایک خاندان کو انصاف ملنا شروع ہوگیا ہے اور اب غریب کی باری بھی آئےگی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک بڑا فیصلہ ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے شریف برادران کی نااہلیت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین اور جمہوری قوتوں کی فتح قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اب جنرل پرویزمشرف کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔ ان کے بقول عدالتی فیصلے کے بعد مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ زور پکڑ جائے گا۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیدمقدم کیا اور کہا کہ اگر عدلیہ آزاد ہو تو سیاسی انتقامی کارروائیاں نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو چاہیے کہ وہ ملک اور قوم کے کھربوں رو پے لوٹنے والوں اور آئین کو توڑنے والوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔


















