افغان مہاجرین کی واپسی یکم جون سے

یو این ایچ سی آر نے حکومت پاکستان کے تعاون سےکوئٹہ کے قریب بلیلی کے مقام پر رجسٹریشن مرکزقائم کیا ہے
،تصویر کا کیپشنیو این ایچ سی آر نے حکومت پاکستان کے تعاون سےکوئٹہ کے قریب بلیلی کے مقام پر رجسٹریشن مرکزقائم کیا ہے
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
  • وقت اشاعت

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر ) کے تعاون سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ یکم جون کو دوبارہ شروع ہوگا۔

رضاکارانہ طور پر افغانستان جانے والے مہاجرین کو فی کس سو امریکی ڈالر امداد دی جائےگی۔ بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ اس سال یکم اپریل سے شروع ہونا تھا مگر کوئٹہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین بلوچستان کے سربراہ جان سولیکی کی اغواء کی وجہ سے واپسی کے عمل میں تاخیر ہوئی۔

بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے یو این ایچ سی آر نے حکومت پاکستان کے تعاون سےکوئٹہ کے قریب بلیلی کے مقام پر رجسٹریشن مرکز قائم کیا ہے۔

اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی ترجمان دنیا اسلم خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ دوہزار چھ کے بعد پیدا ہونے والے کمسن بچوں کی رجسٹریشن سیٹلایٹ ٹاؤن کوئٹہ میں کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ان افغان مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہوں نے اس خوف سے رجسٹریشن کے اس عمل میں حصہ نہیں لیا تھا کہ کہیں حکومت پاکستان ان کو زبردستی افغانستان روانہ نہ کردے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کےخاتمے اور حامد کرزئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کایہ عمل دوہزار دو میں شروع ہوا تھا اور اب تک تین ملین سے زیادہ لوگ اقوام متحدہ کے مالی تعاون سے افغانستان جا چکے ہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں گزشتہ سال بلوچستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ انتہائی سست رہا اور پورے سال صرف اٹھارہ ہزار افراد افغانستان گئے تھے۔

افغانستان نہ جانے کی وجہ افغان مہاجرین نے افغانستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال بے روزگاری اور رہائشی مسائل بتائے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان مہاجرین کوفی کس ملنے والی سو امریکی ڈالرافغانستان کے دوردراز شمال جنوبی علاقوں پہنچنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔

دوسری جانب صوبہ سرحد سے افغان مہاجرین کی واپسی یکم اپریل سے جاری ہے اور اب تک بائیس ہزار سے زیادہ لوگ دو ماہ میں افغانستان جاچکے ہیں۔ بعض سیاسی مبصرین کے مطابق صوبہ سرحد سےافغان مہاجرین کی زیادہ تعداد میں واپسی کی ایک بڑی وجہ سوات فوجی آپریشن اور صوبہ سرحد میں امن وامان کی خراب صورتحال ہے جس کے مقابلے میں افغانستان میں اس سال امن وامان کی صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے۔