جنوبی ایشیا میں امریکی کردار

پاکستان کا دورہ کرنے والے پانچ رکنی امریکی سینیٹ کے ایک وفد کے سربراہ سینیٹر تھامس کارپر نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
یہ بات انہوں نے منگل کی دوپہر کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں کہی۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تھامس کارپر نے وزیراعظم سے ملاقات میں کہا ہے کہ ’مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات حل کرانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں امریکہ کردار ادا کرے گا‘۔
مسئلہ کشمیر حل کرانے کے بارے میں امریکی کردار کے بارے میں اوبامہ انتظامیہ نے جب ماضی میں بیانات دیے تھے تو اس پر بھارت نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی سینیٹرز کے وفد کے کسی سربراہ نے اس بارے میں بیان دیا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی سینیٹ کے وفد کے سربراہ نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کی جانب سے مالاکنڈ کے متاثرہ عوام کے لیے انسانی بنیاد پر اعلان کردہ امداد اور پاکستانی سیکورٹی فورسز کی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے استطاعت بڑھانے کے لیے فوری مدد کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے امریکی سینیٹرز کو بتایا کہ ایک طرف حکومت شدت پسندوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے تو دوسری جانب متاثرہ علاقوں سے بے گھر ہونے والے ستائیس لاکھ افراد کی بحالی کا بھی انہیں چیلینج درپیش ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ عالمی برادری نے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے وعدہ کردہ امداد سے تاحال بہت کم مدد فراہم کی ہے اور پاکستان کو اس بارے میں فوری مدد کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے پاکستان اور امریکہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بڑھائیں۔


















