’بلوچستان پر دھیان دینا ہوگا‘

- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور سلسلے میں قومی مفاہمت کی پالسی پر عمدرآمد ضروری ہے۔
صدر نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کا اجلاس طلب کیا جائے جس میں بلوچستان کے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔
یہاں اسلام آباد میں صدر اور وزیر اعظم کی ملاقات کے بارے میں ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کا اجلاس جماعت کے نائب چئرمین کی حیثیت سے طلب کریں گے۔
صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وسیع تر قومی مفاہمت پر کام کیا جائے تاکہ بلوچستان کے لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔ صدر کے مطابق انھوں نے بلوچستان اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ ایک قرار داد مرکزی حکومت کو بھیجے جس میں ان کے مسائل اور مطالبات کا ذکر ہو تاکہ قرار داد کے حوالے سے یہاں مر کزی سطح پر وسیع پیمانے پر عمل کیا جا سکے۔
وزیر اعظم نے سوات کے حوالے سے طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد کہا تھا کہ اب وہ بلوچستان کے حوالے سے بھی آل پاٹیز کانفرنس جلد طلب کریں گے لیکن تاحال اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سوات کے حوالے سے طلب کی گئی کانفرنس میں بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت نہیں کی تھی۔ اس دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سکریٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ سے دو روز پہلے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت خود ایک پارٹی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جج بھی وہ بنیں۔ حبیب جالب کے مطابق بلوچستان کا مسئلہ جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس کے لیے انھوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس میں مداخلت کرے اور بلوچستان کے مسئلے کا حل برابری کی بنیاد پر تلاش کیا جائے۔


















