پناہ گزینوں کی اسلام آباد میں رجسٹریشن

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے نے سوات، مالاکنڈ اور دیگر علاقوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں نقل مکانی کرنےوالے افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا ہے۔
اس ضمن میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جنہوں نے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر پناہ گزینوں کے بارے میں سروے کرکے متعلقہ حکام کو دے دیا ہے۔ جس کے مطابق دونوں شہروں میں سوات اور دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد چھ ہزار سے زائد ہے۔
اسلام آباد کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت سوات مالاکنڈ اور دیگر علاقوں سے دارالحکومت میں آنے والے افراد کی تعداد دو سے ڈھائی ہزار کے درمیان ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اسد اللہ فیض کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین کے ساتھ ملکر نقل مکانی کرنے والے افراد کے متعلق ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے گی۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ اقوام متحدہ کے ساتھ ملکر نقل مکانی کرنے والے ان افراد کو اُن کے علاقوں میں واپسی کے حوالے سے ایک پیکج تیار کرے گی جس میں اُن کو راشن کے علاوہ کچھ نقدی اور دیگر ضروری سامان بھی شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد اپنے طور پر ہی بارہ کہو ،گولڑہ اور دیگر علاقوں میں کرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد کو اُن کے علاقوں میں واپس بھیجنے سے پہلے اُن کی نفسیاتی اور سماجی مدد کی جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو ابتدائی طور پر پچیس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے تاہم وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جب تک رجسٹریشن کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا اور ان افراد کے اکاوئنٹ بینکوں میں نہیں کھلوائے جاتے اُس وقت تک متاثرہ افراد کو مذکورہ مالی امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نقل مکانی کرنے والے کچھ افراد نے اسلام آباد کے گردنواح کے علاقوں میں کیمپ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن ان کیمپوں کو چند گھنٹوں کے بعد ہی اُکھاڑ دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں وزارت داخلہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ جب تک وزارت داخلہ کی طرف سے اجازت نامہ نہ دے اُس وقت تک شہر میں نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے رہائشی کیمپ قائم نہ کیے جائیں۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سوات اور دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے وہاں سے متعدد شدت پسند نقل مکانی کرنے والوں کی آڑ میں فرار ہوگئے ہیں۔
وزارت داخلہ نے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ جڑواں شہروں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کا مکمل ریکارڈ جمع کرکے اس کی ایک جامع رپورٹ وزارت داخلہ کو ارسال کریں۔






















