’ عدالتی فیصلے کاجائزہ لیا جا سکتا ہے‘

چیف جسٹس
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ اقبال ٹکا کیس کے حوالے سے عدالت میں جواب داخل کروائیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالت سپریم کورٹ کے اُس تیرہ رکنی بینچ کے فیصلے کا از سرنو جائزہ لے سکتی ہے جس نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو درست قرار دیا تھا۔

یہ ریمارکس انہوں نے جمعرات کے روز سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈہاک ججوں کو مستقل نہ کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے رشید اے رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں دو ایڈہاک ججوں کو مستقل کرنے سے پہلے ہی اُن کی مدت ملازمت ختم کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اُن کے موکلوں کی مدت ملازمت پوری ہونے سے پہلے ہی انہیں غیر موثر کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اعلٰی عدلیہ کے کسی بھی جج کو نوکری سے نکالنے کے لیے اُس کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا جاتا ہے لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے ججوں سے متعلق ظفر علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کے بارہ رکنی بینچ کے فیصلے کو بھی نظر انداز کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اعلٰی عدالتوں کے کسی بھی جج کو آئین میں دیے گئے طریقہ کار کو اختیار کیے بغیر نوکری سے نہیں نکالا جاسکتا۔

رشید اے رضوی نے کہا کہ عدالت اقبال ٹکا کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی نظرثانی کرے جس میں سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے اعلٰی عدالتوں کے ججوں کی برطرفی اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مزید تین ججوں کو بھی غیر موثر کیا گیا ہے لہٰذا تمام درخواستوں کو یکجا کردیا جائے تاکہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ دیگر تین ججوں میں جسٹس بنیامین ، پیر علی شاہ اور ارشد نور شامل ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر لارجر بینچ ہی تشکیل دینا ہے تو پھر اقبال ٹکا کی درخواست پر آنے والے فیصلے کا بھی دوبارہ سے جائزہ لیا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت نے مناسب سمجھا تو اقبال ٹکا کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ اس حوالے سے عدالت میں جواب داخل کروائیں۔

واضح رہے کہ پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کے اقدامات کی توثیق کی تھی۔

اس کے بعد اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پر پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے بھی سات رکنی بینچ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا اور کہا تھا کہ جن ججوں نے تین نومبر کے اقدامات کے بعد دوبارہ حلف نہیں اُٹھایا وہ اب جج نہیں رہے۔