پشاور دھماکوں کی زد میں، نو ہلاک

پشاور دھماکہ
،تصویر کا کیپشنپشاور دھماکہ شہر کے گنجان آباد علاقے میں ہوا
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور اس کے مضافات میں ہونے والے دو بم دھماکوں اور مبینہ خودکش حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکوں کی وجہ سے درجنوں دکانوں، مکانات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کے مطابق پشاور شہر کا گنجان آباد اور تنگ علاقہ کباڑی بازار جمعرات کی شام تقریباً پانچ بجے کے بعد یکے بعد دیگرے دو دھماکوں سے لرز اٹھا۔ دھماکوں کے وقت وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے دو ٹائم بم موٹر سائیکلوں پر نصب کیے تھے جو کباڑی بازار اور قریب واقع قصہ خوانی بازار میں کھڑے کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں دھماکے تقریباً پانچ منٹ کے وقفے میں پیش آئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکوں سے قریبی دکانوں میں آگ لگ گئی جس سے درجنوں دوکانیں تباہ ہوگئی ہے جبکہ آس پاس موجود گاڑیوں اور مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال لیڈی ریڈنگ منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

Image

ادھر اس واقعہ کے بعد جائے وقوعہ کے قریب چند مسلح افراد اور پولیس کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں دو مسلح افراد ہلاک جبکہ دو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سرحد پولیس کے سربراہ ملک نوید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ چند مبینہ دہشت گردوں نے قریبی عمارتوں میں پناہ لیکر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ ان کے مطابق پولیس کے جوابی حملے میں دو دہشت گرد ہلاک جبکہ دو کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس سربراہ نے بتایا کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حراست میں لیے جانے والے دہشت گرد کون ہیں اور ان کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

دریں اثناء پشاور کے نواحی علاقے متنی میں ایک مبینہ کاربم خودکش حملے میں کم سے کم دو اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شام اس وقت پیش آیا جب بارود سے بھری گاڑی میں سوار ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے سرہ خورہ کے مقام پر پولیس کی ایک وین کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں پولیس اہلکار احمد جان اور ایک نامعلوم راہگیر ہلاک ہوگئے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کے مطابق دھماکے میں سو سے زائد کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے تاہم قریب کوئی بڑی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تقریباً ایک گھنٹے کے وقفہ میں پشاور شہر کو دو اطراف سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے کچھ وقت کے لیے شہر میں افرتفری کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔ ان حملوں میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک نئی حکمت عملی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے دھماکے کیے گئے پھر وہاں حملہ آور بھی آس پاس موجود رہے جن کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق ان حملوں کا مقصد بظاہر شہر میں امن امان کی صورتحال کو تہس نہس کرنا تھا۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ پشاور میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہونے والا مجموعی طورپر یہ چھٹا دھماکہ تھا۔ اس سے پہلے کاکشال، پشاور صدر اور خیبر بازار میں تین دھماکے ہوئے تھے جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔