سیاحت بھی دم توڑنے لگی

دبئی
،تصویر کا کیپشندبئی میں سیاحت نائٹ لائف اور کلبز کے بغیر مکمل نہیں ہوتی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
  • وقت اشاعت

مغرب کی جانب سے چلنے والا معاشی بحران جب دبئی پہنچا تو سب سے پہلے اس مشکل وقت میں اس کا ساتھ چھوڑا لاکھوں کی تعداد میں یہاں آنے والے سیاحوں نے۔ جس کے بعد دبئی کی تیسری بڑی صنعت، یعنی سیاحت دم توڑنے لگی۔

دبئی شہر سے تیس کلومیٹر دور لق و دق صحرا کے بیچوں بیچ مشہور عربی بیلے ڈانس کا یہ مظاہرہ دیکھنے یورپ اور دیگر برِاعظموں سے ہر سال لاکھوں لوگ دبئی آتے ہیں۔ یہ سیاح اتنی بڑی تعداد میں اس عرب ریاست میں جمع ہوتے ہیں کہ سیاحوں کی تعداد یہاں رہنے والوں کی تعداد سے کئی گنا ہو جاتی ہے۔

دبئی حکومت کا خیال ہے کہ اگلے برس دبئی میں ڈیڑھ کروڑ سیاح آئیں گے۔ لیکن امریکہ، یورپ اور پھر دبئی میں پھیلی معاشی بحرانی کیفیت کے بعد اب ایسا ہوتا ممکن نطر نہیں آ رہا۔

<link type="page"><caption> کب جانے کیا ہو جائے </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090527_dubai_chalo_part3_rr.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> نوکری گئی تو دبئی بھی گیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090525_dubai_chalo_part2_rr.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> دبئی چلو </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/05/090523_dubai_chalo_part1_aw.shtml" platform="highweb"/></link>

مجھے صحرا کی اس دلفریب شام سے لطف اندوز ہونے کا موقع دلیپ کمار نے فراہم کیا جو دبئی میں ڈیزرٹ سفاری چلانے والی کمپنی کے سیلز ایگزیکٹو ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیاحوں کی آمدو رفت کم ہونے کے بعد ان کی سیاحتی کمپنی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ ’ہم لوگ مختلف ہوٹلوں پر بنے اپنے ٹریول ڈیسک پر روز فی ہوٹل بیس پچیس سیاح صحرا کی سیر کے لئے لے کر آتے تھے۔ اب بمشکل دو چار سیاح ہی ملتے ہیں۔‘

دلیپ کمار نے بتایا کہ ہر سال مارچ اپریل میں یورپی سیاح دبئی آتے تھے اور صحرا کی سیر ’ڈیزرٹ سفاری‘ کرتے تھے۔ لیکن اس بار ان کی تعداد میں، دلیپ کے مطابق چالیس فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دبئی دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک نئی دلچسپی کے طور پر سیاحتی دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ ٹیکس کی چھوٹ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں سیاح یہاں شاپنگ کے لیے آتے رہے اس مقصد کے لیے دبئی میں دنیا کے بڑے بڑے شاپنگ پلازہ تعمیر کئے گئے۔

اس کے بعد مصنوعی جزیروں سے لےکر دنیا کے عمدہ اور مہنگے ترین ہوٹلوں نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔ لیکن گزشتہ برس شروع ہونے والے معاشی بحران کے باعث دبئی سیاحوں میں مقبولیت کھو رہا ہے۔ اس بارے میں سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ لہٰذا حقیقت حال کا اندازہ کرنے کےلیے میں پہنچا دبئی کے علاقے بر دبئی۔

مڈویسٹ ہوٹل کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ شیشی شیٹی نے بتایا کہ دبئی کے ہوٹلوں میں سیاحوں کی آمد گزشتہ برس انہی دنوں کی نسبت چالیس فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ جس کے باعث ہوٹل صنعت میں بھی ملازمتیں ختم کی جارہی ہیں۔

دبئی کے ہوٹلوں کی تنظیم کے رکن وہاب صدیقی کے مطابق ہوٹل کی صنعت اس بحران کی وجہ صرف سیاحوں کی کمی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’دبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرنے والوں کی ایک بڑی تعداد سرمایہ کاروں پر مشتمل تھی جو یہاں نئے نئے کاروبار شروع کرنے یا جائیداد خریدنے آتے تھے۔ اب سیاحوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی آمد و رفت بھی دبئی میں کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ہمارا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے‘۔

وہاب صدیقی نے بتایا کہ اسی وقت گزشتہ برس دبئی کے ہوٹلوں کے پچاسی فیصد کمرے کرائے پر لگے ہوتے تھے جب کہ اس سال یہ شرح ساٹھ سے پینسٹھ فیصد تک ہو گئی ہے۔

دبئی کے آبائی باشندوں کی تعداد چھ لاکھ ہے، بیرون ملک سے آکر یہاں بسنے والوں کی کل تعداد ملا کر دبئی کی آبادی بیس لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن دبئی کی کشادہ سڑکیں ہمیشہ ٹریفک کے اژدہام سے تنگ محسوس ہوا کرتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہے۔

ایک شام دبئی کے مشہور المخطوم پل سے گزرتے ہوئے ٹیکسی ڈرائیور عباس نے بتایاکہ 'آپ خوش قسمت ہیں جو اس وقت دبئی آئے ہیں۔ اگر چھ آٹھ مہینے پہلے آئے ہوتے تو اس پل پر سے گزرنے میں آدھ گھنٹہ لگ جاتا ٹریفک جام کی وجہ سے۔ اب تو مزے سے چالیس پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اس پل پر سے گزر جاتے ہیں'۔

بیلے ڈانس دیکھنے یورپ اور دیگر برِاعظموں سے ہر سال لاکھوں لوگ دبئی آتے ہیں
،تصویر کا کیپشنبیلے ڈانس دیکھنے یورپ اور دیگر برِاعظموں سے ہر سال لاکھوں لوگ دبئی آتے ہیں

دبئی میں سیاحت نائٹ لائف اور کلبز کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ عرب ریاست ہونے کے باوجود دبئی سرکار نے یہاں نہ صرف شراب فروشی اور نوشی کی غیر اعلانیہ اجازت دے رکھی ہے بلکہ دبئی کے اس مشہور نائٹ کلب کے باہر سڑک کنارے ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے، مجھے ایک نیا تجربہ ہوا۔

منی سکرٹ میں ایک خوبرو خاتون میرے قریب آئیں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں مجھے مخاطب کیا۔

مجھے جلد ہی پتہ چل گیا کہ ایک وسطی ایشیائی ریاست سے تعلق رکھنے والی نرگس جسم فروشی کے پیشے میں ہیں اور اس کام میں وہ اکیلی نہیں ہیں۔ رات دس بجے کے بعد اس سڑک پر دونوں جانب ایشیا سے لے کر افریقہ تک کے ممالک سے تعلق رکھنے والی درجنوں خواتین اپنی موبائل دوکان سجائے صبح تین بجے تک کھڑی رہتی ہیں۔ بر دبئی کی یہ سڑک اور اس پر ہونے والا یہ کام کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

لیکن قدیم دبئی کے علاقے ڈیرہ کی شمیم خفیہ طور پر یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ڈیرہ کے ایک ہوٹل میں بنے اپنے ’ڈیرے‘ پر شمیم نےمجھے بتایا کہ اس نے دبئی میں ایک گھریلو ملازمت کے لیے ڈھاکہ میں ایک ایجنٹ کو اسی ہزار روپے دیے تھے لیکن یہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ وہ جسم فروشی کے لیے دبئی ’اسمگل‘ کی گئی ہیں۔

دبئی کے چمکتے دن اور مہکتی شامیں، اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو اس طرح سے راغب کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں جس کے لیے اس شہر کی عمارتوں، ساحلوں اور سڑکوں کو تیار کیا گیا تھا۔ اور یہ دبئی کی تیسری بڑی صنعت کا بحران ہے۔

’دبئی چلو‘ کی پانچویں قسط میں ذکر ہوگا غریب لوگوں کے دبئی کا۔ ان لوگوں کا جو دبئی جیسے امیر شہر کے غریب باسی ہیں۔ کئی دہائیوں قبل ’دبئی چلو‘ کے دل فریب نعرے اور خواب کا پیچھا کرتے دبئی پہنچنے والے ان بلوچ قبائل کی دوسری نسل کس حال میں ہے، یہی آئندہ قسط کا موضوع ہو گا۔