پاکستانی عدم تحفظ کا شکار

- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ایک سروے کے مطابق پاکستانیوں میں عدم تحفظ کا احساس غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے اور پچھہتر فیصد افراد کا خیال ہے کہ ان کے قریبی علاقے میں رات کے وقت پیدل چلنے والوں کو اسلحے کے زور پر لوٹا جا سکتا ہے ۔
جمعہ کے روز جاری ہونے والے گیلپ کے سروے کے مطابق ستر فیصد افراد کا خیال ہے کہ اگر ان کے پاس پڑوس میں تالا بندگھر میں چوری ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ پچھہتر فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ رات کے وقت اگر کوئی بھی اپنے قریبی علاقے میں پیدل چلنے والے شخص کو اسلحے کے زور پر لوٹا جا سکتا ہے۔
سروے میں شریک افراد سے جب سوال پوچھا گیا کہ اگر آپ کے قریبی علاقے میں کوئی شخص ایک سے دو میل کا پیدل سفر کرے تو کیا اسے لوٹا جا سکتا ہے تو اس پر پچھہتر فیصد افراد نے کہا کہ اس بات کے بہت واضع یا کسی حد تک امکانات ہیں کہ اگر رات کے وقت ان کے علاقے میں کوئی شخص پیدل چلے تو اس پر حملہ ہو سکتا ہے۔ جبکہ صرف چوبیس فیصد افراد کا خیال ہے کہ ان کا علاقہ محفوظ ہے اور وہاں کسی پیدل چلنے والے شخص پر حملہ نہیں ہو سکتا ہے ۔
گیلپ کا حالیہ سروے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر کیا گیا ہے اور اس میں تقریباً چھبیس سو افراد نے حصہ لیا۔
سروے کے مطابق ذاتی تحفظ کے بارے میں صرف صوبہ پنجاب میں بہتری آئی ہے اور باقی صوبوں میں حالات ویسے ہی ہیں یا پہلے سے بھی بد تر ہو چکےہیں۔
سروے میں شامل افراد کے مطابق صوبہ بلوچستان میں جرائم کی شرح میں چھہتر فیصد، سرحد میں چوالیس فیصد، سندھ میں اکتیس فیصد اور پنجاب میں سولہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سروے میں شامل سینتیس فیصد افراد کے خیال میں گزشتہ ایک سال کے دوران چوری کے واقعات اور عدم تحفظ میں کمی آئی ہے ۔ چھبیس فیصد افراد کے مطابق اضافہ اور سینتیس فیصد افراد کے مطابق حالات یوں کے توں ہیں ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















