لاہور دھماکہ، کوئی سراغ نہیں ملا

- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
لاہور میں آئی ایس آئی کے صوبائی ہیڈکواٹر اور پولیس چیف کے دفتر پر حملے کی تفتیش جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی ایسا بڑاسراغ نہیں ملا جس کے ذریعے ملزموں تک پہنچا جاسکےالبتہ ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ اس نے فرار ہونے والے تین شدت پسندوں کو دیکھا تھا اور سامنے آنے پر وہ انہیں شناخت کرسکتا ہے۔
پولیس اور فوج کی ٹیموں نے اپنی تفتیش کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے شہر کے مختلف حصوں سے چالیس سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ۔
حراست میں لیے جانے والے زیادہ تر افراد کی مادری زبان پشتو ہے اور ان کا شمار معمولی محنت کشوں میں ہوتا ہے۔حراست میں لیے جانے والے دوافراد لاہور کے رہائشی ہیں ان کے لواحقین نے پولیس کے خلاف الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
ان تمام گرفتاریوں کے باوجود پولیس تفتیش میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہ دھماکہ کل لاہور کے کیپٹل سٹی پولیس چیف پرویز راٹھور کےدفتر کے باہر ہواتھا۔
سٹی پولیس چیف پرویز راٹھور نے کہا کہ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے اور انہیں جلد کامیابی کی توقع ہے۔
دھماکے کے بعد کوئنز روڈ اور لارنس روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے اور غیر متعلقہ لوگوں کو اس علاقے میں جانے سے روکاجارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسا عارضی طور پر کیا گیا ہے تاکہ دھماکے کے شواہد اور ثبوت حاصل کیے جاسکیں ۔
دھماکے والی جگہ سے ملبے کی صفائی کےموقع پر تفتیشی ٹیموں کے اہلکار موجود رہے۔ ڈسٹرکٹ آفیسر آپریشنزمحمد عارف کا کہنا تھا کہ کل رات سے اب تک انہوں نے دوسوٹرکوں پر ملبہ اٹھایا ہے۔
تفتیشی اہلکار اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ملبے سے بارود سے بھری ویگن کا کوئی ایسا حصہ تلاش نہیں کرسکی جس سے اس کے رجسڑیشن یا انجن نمبر کی شناخت ہوسکےتھانہ سول لائنز میں درج ابتدائی اطلاعات رپورٹ یعنی ایف آئی آر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فوج کے کرنل ذوالفقار احمد بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ایف آئی آر تھانہ سول لائن سٹیشن ہاؤس آفیسر ملک تیمور کے بیان پر درج کی گئی ہے اور ان کے بقول انہوں نے چھ حملہ آوروں کو فائرنگ کرتے دیکھا جن میں تین فرار ہوگئےتھے۔ایس ایچ او کے بقول وہ ان تینوں کو سامنے آنے پرشناخت بھی کرسکتے ہیں۔






















