’دہشت گردوں کو بیرونی امداد‘

یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشن’نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد ملک کے لیے قربانی دے رہے ہیں‘
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو منشیات میں ملوث افراد اور بیرون ملک سے امداد مل رہی ہے جس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔

سنیچر کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا جنگجوؤوں میں چیچن، ازبک، عرب، طالبان اور افغان شامل ہیں اور اس کے علاوہ اس میں منشیات کے بڑے سمگلر ملوث ہیں جو انھیں رقم فراہم کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اس کے شواہد ہیں اور وہ صحیح وقت پر اس بارے میں قوم کو آگاہ کریں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ فوجی آپریشن ملک اور قوم کے مفاد میں کیا گیا ہے اور اس آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد ملک کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم سے آج بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور گورنر ذوالفقار مگسی کی قیادت میں صوبائی وزراء کے ایک وفد نے ملاقات کی ہے اور انھیں صوبے کے بجٹ میں تیاری کے حوالے سشکلات سے آگاہ کیا ہے

بلوچستان کے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے بی بی س کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے صوبے اور کوئٹہ کی ترقی کے لیے تین تین ارب روپے فوری طور پر فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگلے سال کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لیے پچاس ارب روپے مختص کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور سابق پی ایس ڈی پی میں بیالیس ارب روپے میں سے بائیس ارب روپے بقایا ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ رقم جاری کی جائے گی۔

مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان کو بجٹ کی تیاری میں سخت مشکلات کا سامنا ہے لیکن اب وزیر اعظم کے اعلان کے بعد وہ ماہرین سے رابطہ کرکے بجٹ تیار کریں گے اور ایسا لگتا ہے کہ خسارے کا بجٹ ہی ہوگا۔

صوبہ بلوچستان کوگزشتہ دس سالوں سے بجٹ کی تیاری میں مشکلات در پیش رہی ہیں جس کے لیے وفاقی حکومت سے مدد طلب کی جاتی ہے جبکہ صوبے میں حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی رائلٹی اور گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کے ضمن میں وفاقی حکومت بلوچستان کی چھ سو ارب روپے کی مقروض ہے لیکن نہ تو وفاقی حکومت اور ناں ہی صوبائی حکومت اس بارے میں کچھ کہہ پاتی ہیں یہ مطالبہ سیاسی جماعتیں صرف اس وقت دہراتی ہیں جب وہ حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہی ہوتی ہیں۔