سندھی: پہلی بار غیر مہمان نواز نظر آئے

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
- وقت اشاعت
سندھ کی طرف نقل مکانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنے سندھ کے اپنے زخم جو غیروں اور اپنوں دونوں نے ہی اسے لگائے ہیں۔ سندھ میں نقل مکانی کے چھوٹے بڑے انسانی آبادی یا ہجرتوں کے سیلابوں کی وجہ سے سندھ کی اپنی ایسی تاریخی درگت بنی کہ تاریخ میں پہلی بار برصغیر میں پختونوں کی طرح مہمان نواز قوم سندھی اپنے ہی جیسے لٹے پٹے لوگوں کی طرف غیر مہمان نواز بنے نظر آتے ہیں۔
تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ بیرون ملک وہ سندھی اور اردو قوم پرست جو ویسے تو یورپ اور شمالی امریکہ کی مہاجر نواز پالسیوں کی وجہ سے ان اقوام کی میزبانی کا مزہ لیتے رہے ہیں وہ بھی سندھ میں مجبوری میں آنے والے بے خانماں اندرونی نقل مکانی کرنے والوں کے خلاف زبان کی ہی حد تک چاقو چھریاں تیز کیے نظر آتے ہیں۔
اگرچہ سندھ میں پختون افغانستان میں امیر امان اللہ خان کی حکومت کے دنوں سے بھی قبل آنے لگے تھے لیکن پٹھانوں کی ایک بڑی تعداد ایوب خان کی حکومت کے ان دنوں میں کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آکر آباد ہوئی جن دنوں بہت بڑی تعداد میں ہزارہ ڈویژن سے ہزارہ اور چھاچھی آبادی کا بھی کراچي میں آ کر آباد ہونا تھا۔ جبکہ گذشتہ آدھی صدی سے سوات سمیت بندو بستی اور قبائلی علاقوں سے لاکھوں پختوں کراچي سمیت اندرون سندھ آ کر آباد ہوئے۔ جبکہ صوبہ سرحد اور افغانستان سے آئے ہوئے لوگ برسوں سے سندھ میں آتے جاتے تھے ۔
ان میں زیادہ تر خانہ بدوش یا کوچی، مٹی اور کوئلے کی مزدوری کرنے والے، ٹرانسپورٹرز، کپڑا اور دیگر چیزيں بیچنے والے، اینٹوں کے بھٹے لگانے والے، لکڑی کاٹنے والے، چلتے پھرتے بینک، چوکیداری کرنے والے اور کئی گورکھ دھندے کرنے والے شامل ہیں۔
جدید کراچي جب روشنیوں کا شہر اور پھر موت کا شہر کہلایا تو اس میں پختون کا خون اور پسینہ بھی برابر کا شامل تھا۔ لیکن آج تک نہ کوئی پٹھان نہ پنجابی کلاشنکوف لے کر کسی سندھی کے گھر میں کود پڑا ہے اور نہ ہی اس نے کسی کو لکڑیوں کے ٹال میں زندہ جلا ڈالا ہے۔
کراچي پر کنٹرول کی لڑائي پختوں اور مہاجر مفادات کے درمیاں دو کرایہ داروں کے درمیان کرائے کے گھر پر لڑائی ہے جس میں مالک مکان کو بے دخل کردیا گیا ہے۔ سندھ میں ڈاکوؤں، قبائلی جنگجو اور نسل پرست مسلح گروہوں یا فری لانس مجرموں کو اسلحے کی مبینہ طور پر سپلائي بغیر کسی نسلی و لسانی امتیاز کے اسلحے کے تاجر کرتے رہے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ کے جنگلات میں چھپے ہوئے ڈاکوؤں نے انہی جنگلات میں لکڑی کے ٹھیکیدار پٹھان کو شاز و نادر ہی اغواء کیا ہو جبکہ سندھی ڈاکو نے سندھی کسانوں اور شیر خوار بچوں تک کو نہیں چھوڑا۔
نہ فقط انیس سو اسی کی دہائي میں حیدرآباد سندھ میں پٹھانوں کے خلاف تشدد میں سندھی اور اردو بولنے والے نسلی انتہاپسند، بلکہ علی گڑھ اور قصبہ کالونی کراچی میں اردو بولنے والوں کے خلاف پٹھانوں کے ساتھ سندھی انتہا پسند شانہ بشانہ دیکھے گئے تھے۔ لیکن بارہ مئي دو ہزار سات کو کراچي میں جہاں آزاد عدلیہ اور جمہوریت کے لیے سڑکوں پر پیپلز پارٹی اور سندھی عوامی تحریک کے کارکنوں کا خون بہا تھا تو وہاں عوامی نیشنل پارٹی والوں کا خون بھی انہی ’نامعلوم‘ ہاتھوں سے بہایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برصغیر میں آزادی اور پختونوں کے مایہ ناز رہنما خان عبدالغفار خان انیس سو اسی کی دہائي میں سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کی سالگرہ میں شرکت کے لیے ان کے آبائي گاؤں آئے تھے اور راستے پر جامشورو میں جب جئے سندھ کے کارکنوں نے خدائي خدمت گار رہنماء کے استقبال میں ہوائي فائرنگ کی تھی تو باچا خان بہت رنجیدہ ہوئے تھے۔
کرسی پر بیٹھے خان غفار خان کے پیچھے کھڑے ہوئے جی ایم سید کی پرانی تصویر بہت ہی تاریخی اور مقبول ہے جس پر لکھا ہے’سندھ جی پارت ہجیو‘ (سندھ کا خیال رکھنا)۔ بھٹو کے دور حکومت میں نعپ کی حکومت کے دنوں میں ولی خان اور اس کی پارٹی کو سندھی قوم پرست دانشور نعپ میں ان کے اردو بولنے والے ساتھیوں کی وجہ سے اپنی تحریروں میں سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ انیس سو اسی کی دہائي میں جی ایم سید نے جنرل ضیاء الحق سے خاص طور پر درخواست کی اور بھارت میں علیل باچا خان کی عیادت کرنے گئے۔
کہتے ہیں کہ آج کل پہلی بار ہندوستان کی اسٹیبلشمنٹ اور باچاخان کی فیملی کے درمیاں آئی ایس آئی کی وجہ سے دوری پیدا ہوئی ہے۔ جب خان عبد الغفار خان فوت ہوئے تو ان کی کی افغانستان میں تدفین کے لیے ان کے جنازے کے جلوس میں سندھی قوم پرستوں کی ایک بڑی تعداد نے جلال آباد تک سفر کیا تھا۔
اندرون سندھ سود قرضہ اور ادھار پر کپڑا دینے والے گلابی سندھی بولنے والے پٹھان کو جتنی سندھی عورتوں کے نام یاد ہوتے ہیں اتنے ان کے مردوں کو بھی یاد نہیں ہوتے۔ مجھے یاد ہے وہ رات جب سکرنڈ میں میرے ایک سندھی دوست کی درگاہ پر ہم ساری رات پشتو ٹپوں کی کتاب پڑھ کر سر دھنتے رہے تھے۔
’میرے مجبوب تیرا منہ ہے کہ بتاسشوں کی دکان جس پر تونے اپنے ہونٹوں کا سرخ تالہ لگا رکھا ہے۔‘ ’ بندوق کا زخم تو مندمل ہوسکتا ہے لیکن تیری باتوں کا نہیں۔‘
سندھ میں مقامی آبادی اور پختونوں میں کشیدگي کی ایک وجہ کچھ پختون لڑکیوں کا گھروں سے بھاگ کر مقامی لڑکوں سے اپنی پسند کی شادیاں کرنا بھی ہے۔ عظیم سندھی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائي سسی کے روپ میں پنہوں اور اس کے رشتہ داروں کے لیے کہتے ہیں۔’میری لگي پٹھانوں سے ہے جو سندھی نہیں جانتے، میں سندھی میں بات کرتی ہوں تو وہ فارسی میں پوچھتے ہیں۔‘
لیکن سندھ میں سندھی پٹھان کئي صدیوں سے آباد ہیں اور کئي علاقوں میں ان کے محلے افغانستان اور پاکستان کے صوبہ سرحد میں موجود ان کے محلوں گلیوں کے نام پر ہیں۔ شکارپور میں سندھی پٹھانوں کے دو بڑے محلوں کو کڑی عطاء محمد اور کڑی نواب کہا جاتا ہے جبکہ سندھی پٹھانوں کی ایک بہت بڑی آبادی شکا رپور ضلع میں کوٹ سلطان کہلاتی ہے۔
حیدرآباد کا مشہور پشوری پاڑہ وہ محلہ ہے جہاں کے باسیوں کو ’پیشوری‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پیشوری حیدرآباد سندھ میں ایک صدی سے بھی زائد عرصہ قبل پشاور سے آ کر آباد ہوئے تھے۔ پشاوری اگرچہ اب مکمل طور پر سندھیوں میں ضم ہو چکے ہیں لیکن آج بھی وہ گھر میں آپس میں پیشوری زبان میں بات کرتے ہیں۔
کچھ ماہ قبل شکار پور ضلع کے کوٹ سلطان میں پٹھانوں کا ایک جرگہ سندھ میں پٹھانوں کے ساتھ ہونے والے واقعات پر غور و فکر کرنے کے لیے اکٹھا ہوا تھا جس کی میزبانی کرنے والے کل کے جئے سندھ کے سرگرم رہنماء آغا ظفراللہ خان شاہین تھے۔
اس میں کل کے کئي سندھی قوم پرستوں نے پھٹان نسل کی بنیاد پر شرکت کی تھی۔ میں نے آغا ظفراللہ خان شاہین کو سنہ ستر کی دہائی میں جیل اور ریل گاڑی میں بڑی جوشیلی تقرریں کرتے اور سندھی شاعر شیخ ایاز کی شاعری پڑھتے دیکھا تھا۔
ضیاء الحق کی آمریت کے ستائے ہوئے وہ سندھی سیاسی کارکن بھول گئے جن کو مزدور کسان پارٹی کے افضل بنگش نے اپنےگاؤں میں پناہ دے کر با سلامت افغانستان کی سرحد پار کرائي تھی۔
میرے ایک دوست نے کہا تھا کہ آج بھی شکار پور کے سندھی پٹھان کو دیکھو گے تو لگے گا وہ مدد خان پٹھان کے گھوڑے سے اترے ہی نہیں۔ لیکن ایک قوم کا غدار دوسری قوم میں ہیرو کہلاتا ہے۔
احمد شاہ ابدالی جسے پختون قوم اپنا ہیرو مانتی ہے سندھی اسے ظالم غاضب فاتح مانتے ہیں جس نے سندھ کی دھرتی تاراج کی تھی۔ سندھ کی تاریخ کے کئي دور کابل اور قندہار سے آئے حملہ آوروں سے لڑائي کرتے گذرے ہیں۔ سندھی صوفی شاعر فقیر عبد الرحیم گروہوڑی نے اپنی مشہور پیشین گوئيوں پر مبنی شاعری میں کہا تھا ’جبھی کبھی سندھڑی تجھے قندہار سے خطرہ۔‘ (’جڈہیں کڈہیں سندھڑی توکھے قندہارئوں جوکھو‘)۔ ظاہر ہے کہ فقیر گرہوڑ کی قندہار سے مراد فاتح اور لٹیرے لشکروں اور طالبان جیسے انتہا پسند ہوں گے نہ کہ ان کے ظلم کے ستائے ہوئے عام سواتی یا اور پختون۔
اگر ان تیس لاکھ اپنے ہی وطن میں بے وطن بنے لوگوں کو نہ سبنھالا گیا تو پھر اس سے آگے انسانی مصائب کے سمندر تہہ سمندر ہیں۔






















