بلوچ بزنس مین کی ’بازیابی‘ کا مطالبہ

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
بلوچستان کے علاقے مند کے رہائشی نور محمد بلوچ کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے کراچی میں حکومت اور عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ انہیں جلد بازیاب کرائیں۔
چاول کے کاشتکار اور تاجر نور محمد بلوچ گزشتہ تین ماہ سے لاپتہ ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے بقول نور محمد بلوچ کو کوئٹہ میں ان کے گھر سے ہاتھ پیر باندھ کر لے جایا گیا ہے اور ان کی گاڑی بھی غائب ہے جبکہ گھر کو سِیل کردیا گیا ہے۔
نور محمد بلوچ بلوچستان کے علاقے مند سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ کراچی اور کوئٹہ میں ان کے گھر ہیں۔ ان کی والدہ اور رشتے مند سے چوبیس گھنٹے کا سفر طے کرکے کراچی پہنچے جہاں انہوں نے پیر کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر لاپتہ ہونے والے نور محمد بلوچ کے بچے بھی موجود تھے۔
نور محمد بلوچ کے بھائی عبید ابراہیم بلوچ نے کہا کہ انہیں حکومت سے کوئی امید نہیں ہے جبکہ عدلیہ نے بھی اب تک لاپتہ افراد کے لئے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا ہے۔ ان کے بقول نور محمد بلوچ چاول کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھی احتجاج کریں گے اور اگر نور محمد بلوچ کی جلد بازیابی نہ ہوئی تو ان کے اہل خانہ خود سوزی بھی کریں گے۔
لاپتہ ہونے والے نور محمد بلوچ کی بوڑھی والدہ نے کہا کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے اور وہ تین ماہ سے غائب ہے۔ 'میرا بیٹا یہاں ملیر میں رہتا ہے، اس کے پانچ بچے ہیں اور وہ گھومنے گیا تھا کوئٹہ، اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا، اس نے کوئی گناہ نہیں کیا، ہمارا کوئی نہیں ہے، ہم بے یارومددگار ہیں، اب تو ہماری حالت قابل رحم ہے‘۔
نور محمد بلوچ کے بڑے بیٹے بارہ سالہ محمد امین نے بتایا کہ وہ کراچی کے علاقے جمعہ گوٹھ ملیر میں رہتے ہیں۔ محمد امین نے کہا کہ 'کوئی کہتا ہے ایجنسیوں والے لے گئے ہیں، کوئی کچھ کہتا ہے، کوئی بھی لے گیا ہے وہ میرے ابو کو رہا کردے۔ وہ پہلے بھی کام کی وجہ سے دو دو ماہ بعد گھر آتے تھے لیکن ان کا فون باقاعدگی سے آتا تھا، اب تو ان کا فون بھی بند پڑا ہے، امی اور دادی کا رو رو کر برا حال ہے، ہماری بس یہ ہی اپیل ہے کہ میرے ابو کو چھوڑ دیا جائے‘۔
نور محمد بلوچ کی طرح بلوچستان سے سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سن دو ہزار نو کی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق ایک ہزار ایک سو دو افراد صرف بلوچستان سے لاپتہ ہیں۔ گزشتہ برس مئی میں حکومت نے ان کی تلاش کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور جون میں حکومت نے کہا کہ صرف تینتالیس افراد کا پتہ چل سکا ہے۔ کئی سو لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرف سے دائر کردہ درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ سال نومبر کی اکیس تاریخ کو انسانی حقوق کے وزیر نے اعلان کیا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے لیے نیا قانون بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانچ سو اڑسٹھ لاپتہ افراد کے کیسوں کا پتا لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ نومبر کی پچیس تاریخ کو سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ملک کے خفیہ اداروں نے ملک بھر میں بے شمار 'ٹارچر سیل‘ قائم کر رکھے ہیں۔






















