عدالتی پالیسی نافذ العمل

- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ عدالتی پالیسی پیر سے نافذ العمل ہوگئی ہے۔ جس کے تحت عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کو جلد نمٹانے اور عدلیہ میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
پالیسی کے تحت انتظامی عہدوں پر فائز ججوں کو واپس بلا لیا گیا ہے جبکہ اعلٰی عدالتوں کے ججوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی صوبے کے قائم مقام گورنر کا عہدہ قبول نہیں کریں اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی اپنے مرتبے سے کم عہدہ قبول نہ کریں۔
اسکے علاوہ عدلیہ سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ہر ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس میں ایک سیل بنایا جائے گا اور کرپشن میں ملوث ججوں کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے گی جبکہ ایماندار، محنتی اور قابل ججوں کو مراعات دی جائیں گی۔
پالیسی میں پولیس سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ تھانے پر رپورٹ درج ہونے کے بعد چودہ دنوں کے اندر اندر عدالت میں رپورٹ پیش کرے اور تمام ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں۔
عدالتی پالیسی میں ججوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس سال یکم جنوری کے بعد درج ہونے والے ایسے فوجداری مقدمات کی جن میں سزا سات سال قید سے کم ہو، تیزی سے سماعت کر کے چھ مہینوں میں نمٹائیں اور ایسے مقدمات کا جن میں سزا کی حد سات سال سے زیادہ ہو ایک سال کے اندر فیصلہ کریں۔ پالیسی کے تحت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان ایسے قیدیوں کو جو وکیل مقرر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ لیگل ایڈ کمیٹیوں کی مشاورت سے وکیل مہیا کریں گے تاکہ ان کے مقدمات کی جلد سماعت ہوسکے۔
آئین کی دفعہ 199 کے تحت اعلی عدالتوں میں داخل ہونے والی آئینی درخواستوں کو بھی جلد از جلد نمٹایا جائے گا اور ترقی، تبادلے اور ملازمت کے دوسرے امور سے متعلق تنازعوں اور اعلٰی تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق پٹیشنز کا فیصلہ دو ماہ کے اندر کیا جائے گا۔
اسکے علاوہ کرایہ داری سے متعلق مقدمات کو بھی چار مہینوں کے اندر نمٹایا جائے گا۔
عدالتی پالیسی میں ہائی کورٹوں کے ججوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً جیلوں کا معائنہ کریں تاکہ جیل قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بناسکیں اور جہاں ممکن ہو موقع پر ریلیف فراہم کرسکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پالیسی میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ عدالتوں میں ضروری سہولیات کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم کرے اور پورے عدالتی نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرے۔
دوسری طرف آئینی اور قانونی ماہرین نے اس پالیسی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ خواجہ نوید احمد کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی قابل عمل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انصاف کی فراہمی کا جو عمل ایک مربوط نظام ہے اور صرف یہ کہہ دینے سے کہ چار مہینے میں کرایہ داری کے مقدمے کا فیصلہ کردیا جائے، فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آپ کو اس کے لیے انفرا اسٹرکچر چاہیے۔اس کے لیے ججوں اور عملے کی ضرورت ہے وہ چاہییں پھر عدالتوں میں ضروری آلات چاہییں۔ یہاں تو لوڈ شیڈنگ سے کئی کئی گھنٹے تک عدالت کا کمپیوٹر بند رہتا ہے تو جج مقدمے کی کیسے کارروائی چلائے۔‘
جسٹس ریٹائرڈ خواجہ نوید احمد کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام کی اصلاح اور عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ اہل اور قابل جج بھرتی ہوں اور ان کی تربیت بھی ہو۔
’جج صاحبان جو ساٹھ ساٹھ صفحوں کے آرڈر لکھتے ہیں چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ ان سب کو یہ کہہ دیں کہ تین چار صفحوں کا آرڈر لکھیں جو وہ خود بھی پڑھ سکیں اور اوپر والی اپیلیٹ کورٹ کا جج بھی پڑھ سکے۔
پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عزیز اے منشی کا کہنا ہے کہ جوڈیشئل پالیسی کا نفاذ ایک اچھا قدم ہے لیکن اس کے بہتر نتائج تبھی حاصل ہوں گے جب قواعد و ضوابط کو آسان بنایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ سول اور فوجداری مقدمات کے لیے جو قاعدے قوانین ہیں انہیں سہل بنانا چاہیے اور یہ قانون سازوں کا کام ہے کہ وہ ان قوانین میں ضروری ترامیم کریں۔
انہوں نے کہا’مثلاً ہمارے ملک میں لوگ عدالتی نوٹس اور سمن کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور جب بھی کسی مقدمے کے فریق کے پاس کوئی سمن یا نوٹس جاتا ہے تو اس پر جواب یہ آتا ہے کہ یہ شخص دستیاب نہیں ہے اور جب نوٹس کی تعمیل نہیں ہوتی تو مقدمے کی کارروائی رک جاتی ہے تو متعلقہ ضابطوں میں تبدیلی کر کے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ اگر کسی شخص کو ایک بار ہی نوٹس بھیجا گیا ہے تو اسے حتمی سمجھا جائے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر قانون پروفیسر این ڈی خان کا کہنا ہے کہ جوڈیشئل پالیسی کا نفاذ ایک احسن قدم ہے لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ اس پر عملدرآمد کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پالیسی کے خدوخال تو بہت اچھے ہیں لیکن ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ اس پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے۔ بظاہر لوگوں میں یہ امید تو پیدا ہوئی ہے کہ اب مقدمات کے بروقت فیصلے ہوسکیں گے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اسکا حل کیا نکالا جاتا ہے۔‘
سینئر وکیل خالد عمران کا کہنا ہے کہ جوڈیشئل پالیسی سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں فائدے کے بجائے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ’دو سال سے وکلاء اور بار بالکل کام نہیں کررہے تھے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا تھا۔ اب انہیں کہا جارہا ہے کہ وہ ان مقدمات کو جلدی جلدی چلاکر فیصلہ کریں سوال یہ ہے کہ وکیل اور جج صاحبان ایک دن میں کتنے مقدمات چلاسکیں گے۔‘
خالد عمران کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کسی پالیسی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے آئین اور قوانین کو بہتر بنایا جائے اور ان میں موجود نقائص کو دور کیا جائے۔
ان کے بقول /پالیسیاں بنانا حکومت کا کام ہوتا ہے عدلیہ کا نہیں۔






















