حافظ سعید کی نظربندی ختم

حافظسعید
،تصویر کا کیپشنحافظ سعید کا نام ان بیس افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے جن کا بھارت نے پاکستان سے حوالگی کا مطالبہ کررکھا ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کالعدم جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظر بندی ختم کر کے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔حافظ محمد سعید کو ممبئی حملوں کے بعد ان کے پانچ ساتھی عہدیداروں سمیت نظر بند کردیا گیا تھا۔

عدالت نے منگل کو جب ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تو وہاں موجود ان کے ساتھیوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھی فوج کے ریٹائرڈ کرنل نذیر کو سخت سکیورٹی میں عدالت میں لایا گیا اور فیصلے کے بعد اسی طرح حافظ سعید کو ان کی رہائشگاہ پر پہنچایا گیا۔

ان کے گھر سے جیل اور پولیس کا عملہ بھی ہٹا دیا گیا ہے اور انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ وہ آزادانہ آ جا سکتے ہیں۔ ان کے ساتھی خالد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ رہائی کے بعد وہ سب سے پہلے چوبرجی میں واقع مسجد القادسیہ جا رہے ہیں۔

حکومت پنجاب نے جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید اور ان کے پانچ ساتھیوں کو چھ مہینے پہلے گیارہ دسمبر سنہ دوہزار آٹھ کو اس وقت نظر بند کیا تھا جب ممبئی حملوں کے بعد اقوام متحدہ نے جماعتہ الدعوۃ پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں۔

ان چھ میں سے دو افراد قاضی کاشف نیاز اور یاسین بلوچ کی نظر بندی آٹھ مارچ کو ختم کردی گئی تھی اور پانچ مئی کو مزید دو عہدیداروں مولانا امیر حمزہ اور عبدالرحمان رحمانی کی رہائی کے بعد حافظ سعید سمیت جماعتہ الدعوۃ کے صرف دو افراد نظر بند رہ گئے تھے۔

کالعدم جماعتہ الدعوۃ کے رہنماؤں نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کررکھا تھا۔ حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی گرفتاری اقوام متحدہ کی پابندیوں کے بعد عمل میں آئی ہے اور چونکہ پاکستان اقوام متحدہ کا چارٹر پر دستخط کرچکا ہے اس لیے وہ اس کی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنے دلائل میں اس نظر بندی کو غیر آئینی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی اقوام متحدہ نے قراردادیں منظور کررکھی ہیں لیکن انڈیا ان پر عملدرآمد نہیں کرتا۔عدالت نے حکومت کو ہدایت کی وہ صرف پاکستان کے قانون اور آئین کے دائرہ کار کے مطابق اپنے دلائل دے۔

اے کے ڈوگر نے کہا کہ حافظ محمد سعید کے خلاف پاکستان میں کوئی مقدمہ درج ہے نہ ان سے کوئی قابل اعتراض مواد برآمد ہوا ہے بلکہ ان کی تنظیم پاکستان میں صرف عوام کے فلاح و بہبود کے منصوبے چلا رہی ہے۔

حافظ محمد سعید کالعدم لشکر طیبہ کے بانی امیر ہیں لیکن پاکستان میں اس پر پابندی لگنے سے پہلے ہی انہوں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔بھارت لشکر طیبہ کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سمیت اپنے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث قرار دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے ممبئی حملوں کے الزام میں قید اجمل قصاب کو بھی کالعدم لشکر طیبہ کا کارکن قرار دیا ہے۔

حافظ محمد سعید کا نام ان بیس افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے جن کا بھارت نے پاکستان سے حوالگی کا مطالبہ کررکھا ہے۔پاکستان بھارت کے ان الزامات کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے مجرموں کی حوالگی کا کوئی قانون بھی موجود نہیں ہے۔

حافظ سعید نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہان کی تنظیم اقوام متحدہ میں بھی اپنا مقدمہ لڑ رہی ہے اور انہیں توقع ہے کہ وہاں بھی وہ کامیابی حاصل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ان کی جماعت پر جو پابندی لگائی ہے اس کی وجہ صرف بھارت کا پراپیگنڈہ ہے جو وہ پوری دنیا میں کررہا ہے۔

حافظ محمد سعید نے کہا کہ انڈیا کے رویے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ’ہم کشمیر پر انڈیا کا غاضبانہ قبضہ قبول کرنے کو کسی صورت تیار نہیں ہیں۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کشمیر میں پرتشدد کارروائیوں کے حق میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ان کا موقف وہی ہے جو حکومت پاکستان کا موقف ہے اور ان کے بقول وہ اسی موقف کو لیکر چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعتہ الدعوۃ محض دعوت اور ریلیف کی تنظیم ہے اور اس کا کسی دوسری کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار اجمل قصاب ان کی تنظیم کا کارکن ہے تو حافظ محمدسعید نے کہا کہ وہ پہلے بھی اس بات کی نفی کرچکے ہیں اور ابھی یہی کہتے ہیں یہ بات نہ پہلے ثابت ہوئی تھی اور نہ اب ہوئی ہے اور ن ہ ہی کبھی ہوسکے گی۔

حافظ محمد سعید نے سوات آپریشن کی مخالفت کی اسے ایک بین الاقوامی سازش قرار دیا اور کہا یہ دراصل ایک طوفان ہے جو پاکستان کے خلاف اٹھایا جارہا ہے اور وہ اس کی کسی شکل میں حمایت نہیں کرتے ہیں۔ جب سے کہا گیا کہ کیا وہ سوات آپریشن کی مخالفت کرکے طالبان کی حمایت کررہے ہیں توانہوں نے کہا کہ وہ اس لڑائی کو کسی شکل میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں وہ ان لوگوں کو سمجھانا اور قائل کرنا چاہتے ہیں پاکستان کے اندر کسی کی کوئی لڑائی نہیں ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ان کا موقف واضح ہے کہ خودکش حملے ناجائز ہیں اور ان کا پاکستان کے اندر کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں ہے۔