مہمند: مزید سکولوں پر حملے

سوات کا ایک سکول(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنسوات کا ایک تباہ شدہ سکول
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں تعلیم ادراوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہےاور گزشتہ شب نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے ایک اور لڑکوں کے دو مزید سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔

مہمند میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب کو تحصیل صافی کے علاقے گوک پنڈ میں واقع لڑکوں کے ہائی سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ عینی شاہدین کے بقول اٹھارہ کمروں پر مشتمل سکول میں آٹھ کمرے مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے ہیں۔ جبکہ دوسرے کمروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اس کے علاوہ تحصیل انبار کے علاقے کوتا ترپ میں بھی لڑکوں کے پرائمری سکول کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔اور تحصیل انبار ہی کے علاقے دراؤ میں لڑکیوں کے ایک مڈل کو بھی بارودی مواد سے تباہ کیاگیا ہے۔مقامی انتظامیہ نے تینوں سکولوں کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ گزشتہ ایک سال سے جاری ہونے والے فوجی آپریشن اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر سوات میں دو سو کے قریب سکول متاثر ہوئے ہیں۔ متاثر ہونے والے سکولوں میں زیادہ ترلڑکیوں کے تعلیمی ادارے شامل ہیں اور قبائلی علاقوں میں تباہ ہونے سکولوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہیں۔

تاہم سکولوں کے تباہ کرنے کے واقعات میں اس وقت سے شدت آئی ہے جب سے سکیورٹی فورسز نے سکولوں مورچے کے طورپر استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

اس کے علاوہ ادھر جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر حملے ہوئے ہیں۔ پہلا حملے وانا کے علاقے گومل زم کے قریب ایک قافلے پر بارودی سرنگ کا حملہ ہوا جس میں چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں اور افغان سرحد کے قریب انگورہ اڈہ کے علاقے نیزئی نارائی میں ایک فوجی ٹھکانے پر راکٹوں سے حملہ ہوا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔