’جبری گمشدگیوں میں اضافہ‘

تنظیم نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے طریقہ کار کے استعمال کو روکے
،تصویر کا کیپشنتنظیم نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے طریقہ کار کے استعمال کو روکے
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

انسانی حقوق کی ایک علاقائی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت پاکستان ملک میں شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے سدباب میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں جبری گمشدگیوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایشین لیگل ریسورس سینٹر (اے ایل آر سی) نامی تنظیم نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کی انسانی حقوق کونسل کے ارکان کی اپیلوں کے باوجود موجودہ حکومت جبری گمشدگیوں کے واقعات کی تحقیقات کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان ایشیاء کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ جبری گمشدگیوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ تنظیم کے بقول وہ وقتاً فوقتاً اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ اس معاملے کی جانب دلاتی رہی ہے۔

ایشین لیگل ریسورس سینٹر کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اقوام متحدہ کے اہلکار جان سولیکی کے اغواء کے بعد اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے ایک خط کے جواب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جبری گمشدگیوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان کے سیکریٹری داخلہ، بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے نمائندے کے علاوہ آئی جی پولیس بلوچستان شامل تھے۔

تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ مارچ کے مہینے میں تحقیقات شروع کرنے والی کمیٹی کے بعض ارکان نے مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے رشتے داروں سے تعاون نہیں کیا جو گواہی دینے کے لیے پیش ہوئے جبکہ لاپتہ ہونے کے بعد مبینہ طور پر کئی مہینوں تک سکیورٹی فورسز کی حراست میں رہنے والے پانچ لاپتہ افراد نے کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان کا رویہ مبینہ طور پر مخاصمانہ تھا جس کے بعد انہوں نے مجبوراً آئندہ کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

تنظیم کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے اس دعوے کے باوجود کہ وہ اس مسئلے سے فوری طور پر نمٹے گی، ملک میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے ’پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آئے ایک سال ہوگیا ہے لیکن گمشدگیوں کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ اور قابل بھروسہ اقدام نہیں کیاگیا ہے اور درحقیقت اپریل دو ہزار آٹھ سے لے کر موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران ساڑھے تین سو افراد لاپتہ ہوچکے ہیں۔‘

تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا الزام پاکستان کے خفیہ اداروں پر لگتا رہا ہے تاہم ان اداروں کے اہلکاروں کو عدالتوں میں پیش ہونے سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے اور اس کا جواز قومی سلامتی بتایا جاتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے پہلے نو مہینوں کے دوران صرف ایک درجن کے قریب لاپتہ افراد کا پتہ چل سکا ہے۔

تنظیم کے مطابق حکومتی کمیٹی کے کام شروع کرنے کے دو ماہ بعد ہی ایسا لگتا ہے کہ جیسے تحقیقات رک گئی ہیں اور اب ایک شفاف اور قابل بھروسہ تحقیقات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

تنظیم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے طریقہ کار کے استعمال کو روکے اور پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور جبری گمشدگیوں کے خلاف تحفظ کے متعلق عالمی کنوینشن پر عمل کرے۔

بیان میں حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد، خودمختار، قابل اعتماد اور فعال ادارہ قائم کرے جس کی تمام تحقیقات کھلی عدالت میں اور شفاف ہوں اور میڈیا کو بھی اس کی رپورٹنگ کی اجازت ہو۔ بیان میں مزید کہا ہے کہ گواہی کے لیے پیش ہونے والے افراد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور حکومتی کمیٹی کے ارکان کے رویے سے متعلق شکایات کی بھی تحقیقات کرائی جائے۔