رچرڈ ہالبروک اسلام آباد پہنچ گئے

ہالبروک
،تصویر کا کیپشنرچرڈ ہالبروک کا سوات میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک تین روزہ دورے پر بدھ کی سہ پہر اسلام آباد پہنچے ہیں۔

ان کے ہمراہ آنے والے وفد میں محکہ دفاع اور خارجہ کے علاوہ امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کے اعلیٰ اہلکار بھی شامل ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی افسر کو بدھ کی صبح پہنچنا تھا لیکن اسلام آباد میں ان کی آمد میں بارہ گھنٹے کی تاخیر ہوئی ہے۔

کسی بھی امریکی افسر کی پاکستان میں موجودگی اور مصروفیت کے بارے میں حفاظتی نکتہ نظر سے پیشگی اطلاعات نہیں دی جاتی تاہم بتایا گیا ہے کہ رچرڈ ہالبروک اس دورے کے دوران مالاکنڈ ڈویژن میں جاری فوجی کارروائی سے بے گھر ہونے والے افراد کے حالات سے آگاہی کے لیے صوبہ سرحد کے شہروں میں بنے امدادی کیپموں کا دورہ کریں گے۔

وہ کس کیمپ میں کس وقت جائیں گے اس بارے میں میڈیا کو بے خبر رکھا گیا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کے روح رواں سمجھے جانے والے امریکی سفارتکار کا یہ سوات میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

امریکہ نے مالاکنڈ ڈویژن میں پاکستان کی جارحانہ حکمت عملی کی تعریف کی ہے اور اسے پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ہالبروک کے ہمراہ محکمہ دفاع کے افسران کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس آپریشن کے بارے میں بھی حکومت پاکستان اور فوجی حکام کے ساتھ گفتگو کریں گے۔

پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے قبل سرکاری پاکستانی نیوز ایجنسی اے پی پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ وہ صدر براک اوبامہ اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی خصوصی ہدایت پر پاکستان جا رہے ہیں تاکہ سوات سے بے گھر ہونے والے افراد کے حالات کا ذاتی طور پر مشاہدہ کر سکیں۔

'ہم نے گیارہ کروڑ روپے ان بے گھر افراد کی مدد کے لیے جاری کیے ہیں جو ظاہر ہے کہ کافی نہیں ہیں۔ میں صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی سے ملاقات کر کے ان لوگوں کی ضروریات کا اندازہ لگانے کی کوشش کروں گا تاکہ اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام اور حکومت کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جائے'۔

رچرڈ ہالبروک نے مالاکنڈ میں جاری فوجی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے ان علاقوں میں اپنی عملداری کو شدت پسندوں کی جانب سے چیلنج کیے جانے پر معقول رد عمل ظاہر کیا ہے۔

'جو لوگ سوات، بونیر اور قبائلی علاقوں میں میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں وہ بہت خطرناک مجرم ہیں۔ ان کا مقصد بھی بہت واضح ہے۔ پاکستانیوں کو محمد علی جناح کی دی ہوئی جمہوریت سے محروم کرنا'۔

ہالبروک کا کہنا تھا کہ امریکہ ان شدت پسندوں کو مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو ضروری سازوسامان دے گا جس میں اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی دوربین اور تیز رفتار ہیلی کاپٹرز شامل ہیں۔