آپریشن: بے گھروں کی آب بیتیاں

- مصنف, رضا ہمدانی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
رنگمالا کے پناہ گزین کیمپ میں لوگ ہلال احمر سے ملنے والی اشیا لیے اپنے کیمپوں کی جانب جا رہے تھے کہ نظر ایک ایسے منظر پر پڑی جو سینکڑوں میں تو کیا ہزاروں کے مجمعے میں بھی دیکھا جا سکتا تھا۔
جہاں مرد اپنی اپنی چیزیں سمیٹے خیموں کی طرف جا رہے تھے وہاں تین بچوں کے ساتھ ایک خاتون سامان اٹھا کر لے جانے کی کوشش میں تھیں۔ کوئی بھی ان کی مدد کے لیے تیار نہیں تھا کیونکہ سب کو اپنی پڑی تھی۔
ہلال احمر کا ایک کارکن آگے بڑھا، پہلے کچھ فاصلے سے بات کی اور پھر آگے بڑھ کر سامان اٹھایا اور خیمے تک لے گیا۔ میرے پوچھنے پر کارکن نے بتایا کہ خیمہ بستی میں آٹھ سو کے لگ بھگ خاندانوں میں یہ واحد بیوہ خاتون ہیں۔
اجازت مانگنے پر خاتون بات کرنے کے لیے آمادہ ہو گئیں۔ لگ بھگ پینتیس سال کی امیر جان زمرد برکان کے علاقے سے اتوار کی شام رنگمالا پہنچیں۔ ان کے ساتھ ان کے تین بچے چھ سالہ شبانہ، پانچ سالہ واجد اور تین ماہ کا یاسین تھے۔
'میرے شوہر شمشیر اور میری بیٹی شبانہ چند دن قبل باورچی خانے میں تھے جب ایک گولہ گرا۔ میرے شوہر تو وہیں ہلاک ہو گئے لیکن اللہ نے میری بیٹی کی جان بچا لی۔‘
انہوں نے کہا کہ انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں لیکن طالبان نے نکلنے نہیں دیا۔ 'ہم نے کئی بار کوشش کی لیکن ممکن نہیں تھا کیونکہ باہر طالبان تھے اور وہ نکلنے نہیں دے رہے تھے۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، جانی نقصان ہوا۔ اس سے اچھا تھا کہ میں باورچی خانے میں ہوتی کم از کم ان بچوں کے سر پر باپ کا سایہ تو رہتا۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ زمرد کان تو حکومت کے کنٹرول میں ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ زمرد کان ہے ان کا علاقہ زمرد کان کے پچھلے علاقے میں ہیں جہاں طالبان کا کنٹرول ابھی تک ہے۔
'میں اپنے محلے والوں کے ساتھ گھر سے نکلی اور کافی دور پیدل چلنے کے بعد گاڑی ملی۔ ایک دن تو فوج نے روک دیا تھا کہ آپ لوگ پیدل نہیں جا سکتے کیونکہ جگہ جگہ طالبان نے دیسی ساخت کے بم نصب کر رکھے ہیں اور ان سے آپ کو جانی نقصان کا خطرہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ اب تو یہاں ہیں جہاں کھانا بھی مل رہا ہے اور ضرورت کی اشیا بھی مل رہی ہے لیکن مستقبل کے بارے میں وہ خاموش تھیں۔ 'جنگ ختم ہونے کے بعد میں کہاں رہوں گی کیسے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالوں گی۔ میرے رشتہ دار بھی مجھے اور میرے بچوں کو کتنے عرصے تک گھر میں رکھیں گے۔‘
اپنے پانچ سالہ بیٹے واجد کی طرف دیکھ کر انہوں نے کہا 'اب یہی ہو گا کہ میں گھروں میں کام کر لوں گی اور یہ کوئی مزدوری کر لے گا۔ پڑھانے کے تو پیسے نہیں ہوں گے۔‘
شبانہ نے بتایا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ کھانا لینے باورچی خانے گئی تھیں کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے بعد انہیں نہیں معلوم کیا ہوا۔ 'دھماکہ اتنا زور کا تھا کہ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔ مجھے نہیں پتہ چلا کہ ابو زخمی ہوئے ہیں۔ میں بس رو رہی تھی اور وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی لیکن بھاگنے کی سکت نہیں تھی۔‘
لیکن قیوم شاہ کی بیوہ کی زندگی میں کم از کم سر چھپانے کا مسئلہ اور معاشی مشکلات نہیں ہیں جن کے بارے میں امیر جان پریشان ہیں اور انہیں مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
پینتالیس سالہ قیوم شاہ پولیس اہلکار تھے جن کی تعیناتی طالبان کے گڑھ پیوچار میں تھی۔ لگ بھگ ایک سال قبل ان کو طالبان نے پیوچار سے اغوا کیا۔ پولیس حکام نے قیوم شاہ کے بھائی حیات شاہ کو بتایا کہ طالبان پہلے قیوم کو مالم جبا لے کر گئے جہاں ایک رات رکھا گیا اور دوبارہ پیوچار لے آئے۔ ان کی سر کٹی لاش پیوچار سے صبح سات بجے ملی۔ حیات شاہ کے مطابق 'ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ میرے بھائی کو رات دو بجے کے قریب شہید کیا گیا۔‘

قیوم کی بیوہ اپنی چھ بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ہمراہ حیات شاہ کے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔ قیوم کی بیوہ نے کہا 'میرے شوہر نے طالبان کا کیا بگاڑا تھا کہ انہیں شہید کیا گیا۔ مجھے رہائش اور معاشی مشکلات تو نہیں ہیں کیونکہ میں اپنے شوہر کے بھائیوں کے گھر میں ہوں اور میرے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ اس بات کا ازالہ کر سکتی ہے کہ طالبان نے میرے بچوں سے ان کا باپ چھین لیا ہے۔ اگر میرے شوہر پولیس میں تھے تو انہوں نے کیا گناہ کیا تھا۔‘
شمشیر اور قیوم کی بیواؤں کی طرح نہ جانے کتنی بیوائیں ہیں جو اس وقت اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان کہیں خاموش بیٹھیں ہوں گی۔






















