اپنے ہی گھر میں مہمان

دبئی کے غیر ملکیوں کو معاشرے میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے
،تصویر کا کیپشندبئی کے غیر ملکیوں کو معاشرے میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
  • وقت اشاعت

’دبئی کی ترقی میں اپنی جوانی اور زندگی کے بہترین برس صرف کر دینے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے یہ ملک اتنا ہی اجنبی ہے جتنا چند گھنٹے قبل یہاں اترنے والے کسی بھی عام مسافر کے لیے۔‘

بائیس برس قبل دبئی آنے کے بعد یہیں رہ جانے والے چھیالیس سالہ عباد انصاری کی یہ بات بظاہر بہت عجیب ہے۔ لیکن جب انہوں نے تفصیل بتائی تو لگا کہ ان کی بات میں وزن ہے۔

’بائیس برس اس ریاست میں رہنے کے بعد مجھے بھی قانونی اور سماجی طور پر وہی حقوق حاصل ہیں جو ابھی چند گھنٹے پہلے یہاں پہنچنے والے کسی دوسرے غیر ملکی کو۔ میں نے اپنی زندگی کا اہم ترین حصہ اس سرزمین کی نذر کیا، اس کی ترقی میں کردار ادا کیا۔ کبھی کسی غیر قانونی فعل میں ملوث نہیں رہا لیکن اب بھی ویزے اور امیگریشن کے لیے میں اسی طریقہ کار سے گزرتا ہوں جیسے کے چند گھنٹے پہلے یہاں پہنچنے والا پاکستانی۔‘

دبئی سے یہ شکوہ ہر اس غیر ملکی کو ہے جو یہاں رہتا ہے۔ شکایت کرنے والے کے لہجے کی تلخی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے برسوں کا حساب مانگ رہا ہے۔

تریسٹھ سالہ شاہ حسین آفریدی تینتالیس برس سے دبئی میں رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے سرکاری تعلیمی اداروں میں غیر ملکیوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ ’یہ ایک طرح کی تفریق ہے۔ غیر عرب کو اپنے سکول یا کالج میں تعلیم کا موقع نہ دینا۔ نجی تعلیم یہاں اتنی مہنگی ہے کہ دس ہزار درہم ماہانہ کمانے والا اچھا پروفیشنل بھی اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔‘

اسی وجہ سے شاہ حسین کو اپنی سب سے پیاری بیٹی کی جدائی برداشت کرنا پڑ رہی ہے جسے انہوں نے ڈاکٹری کی تعلیم دینے کے لیے پاکستان بھیجا ہے۔

عباد انصاری اور شاہ حسین کے ساتھ دبئی کے تبدیل ہوتے سماجی رویوں پر ہونے والےگفتگو میں ایک اور نکتہ زیربحث آیا۔شاہ حسین نے دبئی کے امیگریشن قوانین میں ایک خامی کی نشاندہی کی۔

’اٹھارہ برس کی بیٹی تو اپنے والدین کے ساتھ رہ سکتی ہے لیکن اگر آپ تیس چالیس سال سے دبئی میں ہیں اور آپ کا بیٹا اس دوران یہیں پیدا ہو کر اٹھارہ برس کا ہوگیا تو وہ یہاں نہیں رہ سکتا۔اسے واپس پاکستان بھیجنا ہوگا۔‘

دبئی کے قانون کے مطابق غیر ملکی افراد کی اولاد نرینہ اٹھارہ برس تک پہنچنے سے پہلے تک اپنے والدین کے ویزے پر رہ سکتے ہیں۔ اگر اس دوران انہوں نے یہاں ملازمت یا کاروبار کر لیا تو ٹھیک ورنہ اپنے وطن واپس۔

عباد انصاری کو اس بات کا بھی دکھ ہے کہ دبئی عام آدمی کی پہنچ سے نکل گیا۔’مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ مکانوں کے کرائے، کھانے کے اخراجات علاج معالجہ یہ سب اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ دبئی جو کسی وقت غریب پرور شہر ہوا کرتا تھا اب صرف امیر لوگوں کا شہر بن گیا ہے‘۔

دبئی ڈیرہ
،تصویر کا کیپشنڈیرہ غمی خوشی میں بے وطنوں کے لیے بہت سہارا تھا

عباد انصاری نے بتایا کہ چند برس پہلے تک یہاں رہنے والے ہر فرد کا علاج حکومت کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ ’اب طبی امداد کمرشلائیز ہو گئی ہے، دبئی کی طرح۔‘

شاہ حسین نے کہا کہ بیس برس قبل تک دبئی میں ’ڈیرے‘ کا کلچر عام تھا۔ اب کرائے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ سب لوگ فلیٹوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

’ایک ڈیرے پر پندرہ بیس لوگ ایک ساتھ رہتے تھے۔ غمی خوشی میں ہم بے وطنوں کے لیے بہت سہارا تھا۔ کھلا صحن بڑے دروازے، نیچی دیواریں، اکٹھا کھانا۔ دس بیس مہمان بھی آجائیں تو پتہ نہیں چلتا تھا۔ اب تو پاکستان سے بھائی بھی ملنے آجائے تو سمجھ نہیں آتی کہاں ٹھہرائیں۔‘

دونوں صاحبان دبئی کی ترقی کو متحدہ عرب امارات کی قیادت کی دوراندیشانہ پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

’ابو ظہبی کے امیر شیخ زید نے معاشی ترقی کے لیے غیر ملکی مشیر مقرر کیے لیکن صرف انہی کے مشوروں پر انحصار نہیں کیا۔ شام کے وقت وہ خود دبئی سےگزرنے والے سمندری قافلوں کی گزر گاہ ابرا پر جا بیٹھتے اور ملکی اور غیر ملکی تاجروں سے گفتگو کرتے اور ان کے آرام کا خیال رکھتے تھے‘۔

عباد انصاری نے بتایا کہ پرانے دبئی میں انیس سو بانوے میں پہلا گالف کورس بنا۔ ’اس وقت صرف چار لوگ گالف کھیلتے تھے۔ لوگوں نے جب گالف کورس بننے کی خبر سنی تو خوب ہنسے۔‘

دبئی کی ترقی دنیا نے دیکھی۔ عباد انصاری کہتے ہیں کہ اس ترقی میں حصہ لینے والے غیر ملکیوں کو ان کے حصے کی دولت تو ملی لیکن معاشرے میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے۔

’آخر کو دبئی ہمارا وطن ہے۔ پہلا گھر یہی ہے، پاکستان دوسرا گھر ہے۔ لیکن آج اتنے برس بعد بھی یہی لگتا ہے ہم اپنے ہی گھر میں مہمان ہیں۔‘