پاک، بھارت رابطے پھر سے شروع

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی رابطے شروع کردیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر جمعرات کو پاکستان کے خارجہ سیکریٹری سے ملاقات کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمشنر نے بدھ کو نئی دلی میں بھارتی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جامع مذاکرات کی بحالی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کیونکہ اگر بات چیت نہیں ہوگی تو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد نہیں ملے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے بھارت کی جانب سے پیشگی شرائط بیکار بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے نئے وزیر خارجہ کی اس بات کو سراہتا ہے جس میں انہوں نے جامع مذاکرات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں دیے گئے بیان پر بھارتی جواب کیا ’شٹ اپ کال‘ ہے تو دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس مسئلہ پر پاکستان کا پرانا موقف برقرار ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
ترجمان نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کا امریکہ کو بھی احساس ہے اور اس کے حل کے لیے پاکستان، واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے جوہری تعاون کے بارے میں بیان پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں امریکہ نے سرکاری طور پر پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اس لیے وہ اس پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔
ایک اور سوال کے جواب میں عبدالباسط نے بتایا فرانس کے ساتھ سویلین نیوکلیئر تعاون کے بارے میں بات چیت جولائی میں شروع ہوگی اور رواں سال کے آخر تک معاہدہ ہونے کی توقع ہے۔
لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک عدالتی فیصلہ ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت حافظ سعید کی رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل داخل کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر براک اوباما کے مشرق وسطیٰ کے دورے کا انہوں نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسلمان اور مغربی ممالک میں جو خلیج ہے وہ پُر کرنے میں مدد ملے گی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ رواں ماہ کے وسط میں ماسکو میں ہونے والی شنگھائی سربراہ کانفرنس میں صدر آصف علی زرداری شرکت کریں گے اور روس کے صدر سے بھی ملیں گے جس کے بعد سترہ جون کو پہلی بار ہونے والی ’یورپی یونین اور پاکستان سمٹ‘ میں شرکت کریں گے۔






















