’مطالبات مانےگئے تو رہائی ملی‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
رزمک کالج کے طلبا کی رہائی سے قبل تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے طلبا سے ملاقات کی، انہیں تحفے تحائف دیئے اور انہیں بتایا کہ فوج سے کہا گیا تھا کہ ’شہید طالبان کی لاشیں ان کے حوالے کردی جائیں اور کچھ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے تو رزمک کالج کے طلبا کو چھوڑ دیا جائے گا۔‘
منگل کو بازیاب ہونے والے طالب علموں میں سے ایک طالب علم مہر اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آپریش کے دوران طالبان کے جو ساتھی ہلاک ہوئے تھے ان کی لاشیں طالبان کو واپس کر دی گئیں‘۔ طالب علم کے مطابق طالبان نے ان سے کہا کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور طالبان کے مطالبات تسلیم ہونے کے بعد طلبا کو رہا کر دیں گے۔
مہر اللہ کا کہنا تھا کہ طلبا کی بازیابی سے پہلے طالبان انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ وہ انہیں (یعنی طلبا کو) تحریک طالبان کے رہنماء بیت اللہ محسود کے پاس لے جا رہے ہیں اور انہیں وہاں کا ماحول دکھانے کے بعد رہا کردیں گے۔
بازیاب طالب علم کے مطابق ’سب سے آگے ہماری گاڑی تھی۔ طالبان سامنے سے آ گئے اور ایک شخص ڈرائیور کی جگہ بیٹھ گیا۔ تقریباً بارہ سے تیرہ گھنٹے سفر کرنے کے بعد ہم ایک مقام پر پہنچے اور اس کے بعد ہم دن رات سفر کرتے رہے اور پتہ نہیں لگا کہ ہم کہاں ہیں۔‘
مہر اللہ نے بتایا کہ جب ان کی بیت اللہ محسود سے ملاقات ہوئی تو بیت اللہ محسود نے کہا کہ جو کچھ ہوا ’میرے حکم کے خلاف ہوا ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ بیت اللہ کے ساتھ ان کی ملاقات تقریباً آدھا گھنٹہ جاری رہی جس دوران بیت اللہ محسود نے انہیں آٹو گراف اور تحائف دیے اور نعتیں سنائیں۔ ایک سوال کے جواب میں طالب علم نے بتایا کہ تحائف میں گھڑیاں اور ٹوپیاں شامل تھیں۔
مہر اللہ نے بتایا کہ بیت اللہ محسود نے اپنے آٹو گراف میں لکھا کہ ’اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ طالبان کی حفاظت کرے۔ اس ملک کو تقسیم ہونے سے بچائے۔ امریکہ کو ناکام کرے اور ہمیں فتح نصیب فرمائے‘۔
مہر اللہ نے اپنے اور اپنے ساتھی طلبا کے کیڈٹ کالج میں پڑھائی جاری رکھنے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’کچھ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اب بلکل نہیں پڑھنا۔ بعض نے کا کہنا ہے کہ کالج کو شفٹ کیا جائے اور جو اغوا ہوئے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اب وہ بلکل کالج نہیں جائیں گے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















