’پاکستانی فوج پر یقین ہے‘

رچرڈ ہالبروک
،تصویر کا کیپشنعالمی برادری سوات اور مالاکنڈ کے متاثرین کے لئے پاکستان کی بھرپور امداد کرے
وقت اشاعت

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستانی فوج شدت پسندوں کی قیادت کے خاتمے میں سنجیدہ ہے۔ ادھر حکومت پاکستان نے امریکہ سے معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے اس کے قرضے معاف کرنے کی درخواست کی ہے۔

پاکستان کے تین روزہ دورے کے اختتام پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعلیٰ امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی فوجی قیادت سے جو بات چیت کی ہے اس کی روشنی میں وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی فوج طالبان قیادت کے خاتمے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ان کے خیال میں مالاکنڈ میں جاری فوجی کارروائی طالبان قیادت کے خاتمے کے بغیر کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے، ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں پاکستانی فوج اپنے بارے میں بات کرے تو بہتر ہے لیکن ہماری اس مسئلے پر آج جنرل کیانی، جنرل پاشا اور جنرل مصطفی سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ میرے خیال میں وہ آپ کے تجزیے تو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد پر میں بھی آپ کی بات کو نہیں مانوں گا۔‘

تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کے خلاف حتمی کارروائی کے بارے میں رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں کسی مخصوص فوجی کارروائی کے بارے میں بات کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کیونکہ یہ پاکستانی فوج کا کام ہے، وہ محض اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وہ پرامید ہیں۔

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا القاعدہ کے لیے پاکستان اور افغانستان میں کارروائیاں کرنا وقت کے ساتھ ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ میں بھی اس بارے میں کوئی زیادہ واضح تصویر موجود نہیں ہے۔

امریکی ایلچی نے جن کا پاکستان کا اس سال یہ تیسرا دورہ ہے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کو محض منشیات کے کاروبار سے پیسہ مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بہت سے ذریعے ہیں جن میں حوالہ اور خلیجی ممالک میں موجود حامی بھی ہیں۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی حکام نے آج تک اس اہم مسلے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے اسے اب تک روکا نہیں جاسکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ٹیم کا ایک وفد جلد اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مقرر کریں گے۔

انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے میں کہا کہ انہیں اس مرتبہ یہاں آ کر یہ تبدیلی محسوس ہوئی کہ پاکستانی عوام کی اسے حمایت حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ صحافیوں کا کام ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ امریکی کی بابت عوامی رائے میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی پاکستانی سرزمین میں داخل نہیں ہوں گے اور یہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ڈرون حملوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے حالیہ دورے کے دوران سول سوسائٹی سمیت کسی نے بھی اس مسئلہ کو نہیں اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سترہ ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے پاکستان پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے تاہم ان کی اور افغاستان میں موجود امریکی فوج کی یہ کوشش ہوگی کہ یہ کم سے کم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں کسی بھی آپریشن کے بارے میں پاکستان کو آگاہ کریں گے۔

ہالبروک کا کہنا تھا کہ سب کو متاثرین مالاکنڈ آپریشن کی جلد از جلد اپنے گھروں کو واپسی یقینی بنانی ہوگی۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سوات اور مالاکنڈ متاثرین کے لئے پاکستان کی بھرپور امداد کرے۔

ادھر وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے رچرڈ ہالبروک کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری بیان میں کیا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے امریکہ سے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملکی معشیت کو سنبھالا جاسکے اور اس پر دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پڑنے والے اثرات کو دور کیا جاسکے۔

تاہم بیان میں ان قرضوں کے مجموعی حجم کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے جس کی پاکستان معافی چاہ رہا ہے۔ بیان کے مطابق امریکی ایلچی نے قرضے معاف کرنے کی درخواست پر غور کی یقین دہانی کروائی تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوجی سامان کی ترسیل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔