ڈی آئی خان: شہر میں کشیدگی

ڈیرہ اسماعیل خان
،تصویر کا کیپشنڈیرہ اسماعیل خان شیعہ سنی فسادات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد شہر میں کشیدگی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد مسلم بازار میں نامعلوم افراد نے ایک سنی کی دکان پر دستی بم سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ بازار غیر اعلانیہ طوپر بند ہوگیا ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ شہر کے مغربی حصے میں واقع ٹانک اڈہ کے شاہین سرائے میں پیش آیا۔ ہلاک ہونے والے دونوں بھائیوں کا تعلق اہل تشیع مسلک سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں بھائی شاہین سرائے میں اپنی دکان کے اندر موجود تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں دونوں بھائی موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے ایک اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کو صبح دس کے بجے کے قریب پیش آیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بھائیوں کے نام محمد حنیف اور رمضان ہیں۔انہوں بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں ایک اور حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ایف سی اور پولیس کی نفری میں اضافہ کردیاگیا ہے اور ڈیرہ سرکلر روڈ پر پولیس نے گشت شروع کردیا ہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ شہر میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور شہر سے باہر تمام تھانوں سے ایس ایچ او سیمت پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان شیعہ سنی فسادات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ ڈیرہ اسماعیل خان سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔گزشتہ چند مہینوں میں درجنوں خاندان ڈیرہ اسماعیل خان چھوڑ چکے ہیں۔