اسلام آباد میں ڈرامہ فیسٹیول

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
ایک ایسے وقت پر جب ملک پر، خصوصًا اسلام آباد میں خوف کا سایہ ہو، تفریح کا خیال کم ہی کسی کو آتا ہے۔ لیکن لوگوں کے دل و دماغ کو ڈرامہ فیسٹیول کی شکل میں تفریح فراہم کرنے کی کوشش کا یہاں پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے۔
ویسے تو وفاقی دارالحکومت میں سیاسی ڈرامے روز کی بات ہیں اور ان سے عوام کو ماسوائے ٹینشن کے کچھ نہیں ملتا، لیکن اب ایسا اہتمام بھی ہوا ہے کہ چالیس روز کے دوران اس شہر کے باسیوں کو انیس اعلٰی پائے کے تفریحی و سبق آموز ڈرامے دیکھنے کو ملیں گے۔ سب سے بڑی خصوصیت پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیر اہتمام ڈرامہ فیسٹیول میں داخلہ مفت ہے۔
پاکستان کے بہترین اداکاروں کے اعلٰی پائے کے سٹیج ڈراموں کو ایک جگہ یکجا کرنا یقینًا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل نعیم طاہر کے مطابق ان کے اور ان کی ٹیم کے اس خیال کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں انہیں دو برس کا عرصہ لگا۔ ’ہماری تمنا تھی کہ ہم پاکستان میں قومی سطح پر ڈرامے کی تحریک کا عکس آپ کے سامنے پیش کرسکیں۔ تمام تحریک کا عیادہ تو نہیں ہوسکا لیکن اس کوشش کو ہم جاری رکھیں گے‘۔
ڈرامے کی تحریک پاکستان میں اتنی وسیع اور پھیلی ہوئی ہے کہ چالیس روز کا دارانیہ اس کے لیے انتہائی کم وقت ہے۔ نعیم طاہر کا افتتاحی ڈرامے کی تقریب سے خطاب میں کہنا تھا: ’ہمارے لیے یہ ضروری تھا کہ ہم ان میں سے چیدہ چیدہ ڈرامے منتخب کرکے آپ کو اور پوری دنیا کو یہ اندازہ کرواسکیں کہ یہاں بھی بہت تعمیری کام ہو رہا ہے‘۔
ڈرامے کی تحریک اس علاقے میں بعض ماہرین کے بقول آٹھ ہزار سال پرانی ہے۔ اس کوشش سے مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں اندازہ ہوسکے گا کہ ڈرامے کی تحریک کس حال میں ہے، کہاں تک پہنچ پائی ہے اور آگے اسے کس جانب رخ کرنا ہے۔
این سی اے کے سربراہ نعیم طاہر کے مطابق اس ڈرامہ میلے کا مقصد موجودہ قومی تناؤ والی کیفیت میں بھی پاکستان کا تعمیری رخ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ 'دہشت گرد کا یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہ وہ دہشت پیدا کرے، لوگوں کو شل کردے اور کوئی کام نہ ہونے دے۔ ہماری زندہ قوم کے زندہ ہونے کا یہ (میلہ) ایک ثبوت ہے۔'
میلے کے منتظمین کے مطابق غالبا یہ اس طرح ڈراموں کا اس پیمانے پر پہلا فیسٹول ہے۔ نعیم طاہر کہتے ہیں کہ انہیں یہ دعویٰ کرتے ہوئے بہت تامل سے کام لینا پڑ رہا ہے لیکن ان کی دانست میں اس نوعیت کا یہ پہلا میلہ ہے۔

میلے کے افتتاح پر پاکستان کی خوبصورت اور منجھی ہوئی اداکارہ فریال گوہر نے اپنا ’خالی کمرہ‘ نامی ڈرامہ پیش کرکے اس میلے کے اعلٰی معیار کا تعین کر دیا۔ تقریبا پچاس منٹ تک انہوں نے پی این سی اے کے کچھا کھچ بھرے ہال کو اپنے سحر کے جال میں انتہائی کامیابی کے ساتھ گرفتار رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فریال گوہر کے ڈرامے کا محور وہ خود یعنی ایک عورت تھی جو اپنے شوہر کے مظالم خاموشی سے جھیلتی رہتی ہے اور کچھ نہیں کہتی۔ جب وہ نیند کی گولیاں کھا کھا کر تھک جاتی ہیں تو بلآخر خودکشی کرتی ہے تو انہیں اپنے ٹپکتے خون کی گرمی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تو زندہ تھی۔
ایک انگریزی ناول سے ماخوز اس ڈرامے میں فریال ناصرف عورتوں کے مختلف چہروں کو بڑی مہارت سے پیش کرتی رہیں بلکہ ’برداشت‘ فروخت کرنے والے پٹھان سے لے کر ٹرنک کال ملانے والے ٹیلیفون کے آپریٹر تک کی نمائندے ایسے اعلٰی انداز سے کی کہ ہال سے بار بار تالیوں سے گونج اٹھا۔
میلے کے آئندہ انتالیس دنوں کے دوران شائقین کو خواجہ معین الدین مرزا کے ’مرزا غالب بندر روڈ پر‘ مدیحہ گوہر کا 'شہر افسوس'، فیصل ملک کا ’اف یہ بیویاں‘، ثمینہ احمد کا ’ڈارک روم‘ اور انجم اعجاز کا ’لذت جنوں‘ جیسا ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا۔






















