جوڈیشل پالیسی ہائی کورٹ میں چیلنج

عدالتی اصلاحات پر مبنی جوڈیشل پالیسی کا اطلاق یکم جون کو کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنعدالتی اصلاحات پر مبنی جوڈیشل پالیسی کا اطلاق یکم جون کو کیا گیا ہے
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں عدالتی اصلاحات کے لیے نافذ کردہ نئی جوڈیشل پالیسی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے اور عدالت نے اس درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ حکم احتساب عدالت کے ان تین ججوں کی درخواست پر دیا ہے جن کو جوڈیشل پالیسی کی روشنی میں ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا حالانکہ ان کو نیب کے قانون کے تحت احتساب عدالتوں میں متعین کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم قومی پالیسی ساز کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ عدالتی اصلاحات پر مبنی جوڈیشل پالیسی کا اطلاق یکم جون کو کیا گیا ہے۔اسی پالیسی میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ انتظامیہ کے ماتحت عدالتوں میں ان جوڈیشل افسروں کو فارغ کیا جائے جواپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عدالتوں میں بطور جج متعین ہیں۔

احتساب عدالت کے سابق ججوں احسن چودھری، حنیف خان اور سردار احمد چودھری نے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کی تقرری قانون کے مطابق تین سال کے لیے کی گئی تھی لیکن جوڈیشل پالیسی کے تحت ان کو بلاجواز ہی ان کے عہدوں سے ہٹادیا گیا جو قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف وزری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کوئی پالیسی کسی قانون کو ختم نہیں کرسکتی اور نہ ہی کوئی ایسی پالیسی مرتب کی جاسکتی ہے جو مروجہ قوانین کے منافی ہو۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کو ان کے عہدوں پر بحال کیا جائے۔ فاضل جج نے درخواست گزاروں کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد نوٹس جاری کردیئے۔ درخواست پر آئندہ سماعت بائیس جون کو ہوگی۔