لشکر کب کامیاب اور کب ناکام ہوتے

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
- وقت اشاعت
پاکستانی فوج مالاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے وہیں ضلع دیر بالا میں مقامی لشکر طالبان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے کہ شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے طالبان کے خلاف مقامی لشکر کو استعمال کیاجا رہا ہو۔
حکومت نے جب دو ہزار دو میں جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا تو اس وقت مقامی لشکر کو بھی ایک حکمت عملی کے طور پر آزمائے جانے کا عمل شروع ہوا۔ اس جنگ کے اب تقریباً سات سال پورے ہوگئے ہیں اور اس عرصے میں قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں جو مقامی لشکر بنائے گئے تھے ان میں سے صرف ایک ہی اس وقت دیر بالا میں طالبان کے خلاف صف آراء دکھائی دے رہا ہے۔ باقی سبھی طالبان کی کارروائیوں کا سامنا کرتے ہوئے تقریباً دم توڑ گئے ہیں۔
حکومت کا خیال ہے کہ وہ فوجی طاقت، مقامی لشکر، مذاکرات اور شورش زدہ علاقوں میں ترقیاتی کام کر کے شدت پسندی کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ لیکن حقیقت حال جاننے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے مقامی لشکر کی مدد اور طالبان کا صفایا کرنے میں نیم دلی کا مظاہرہ کیا تھا۔
مقامی لشکر کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ طالبان کی جوابی کارروائیوں کا بھی آغاز ہوگیا جو پہلے ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں شروع ہوا۔حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ان سات سالوں کے دوران طالبان کی مزاحمت کرنے والے چھ سو سے زائد قبائلی مشران کو قتل کیا گیا ہے۔
جنرل ( ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی حکومت کے مقابلے میں اٹھارہ فروری دو ہزار سات میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت نے دہشت گردی کے خلاف نئی پالیسی کا جو اعلان کیا اس میں مقامی لشکر بنانے کی حکمت عملی اہم تھی۔
اس حکمت عملی کا آغاز باجوڑ ایجنسی سے کیا گیا اور یوں لشکر بنانے کا سلسلہ اورکزئی ایجنسی، سوات، دیر بالا، دیر لوئر، پشاور، درہ آدم خیل، بونیر اور دیگر علاقوں تک پھیلا دیا گیا۔ اس دوران صوبہ سرحد کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ مقامی لوگوں کو اسلحہ فراہم کرے گی جسے بعد میں سول سوسائٹی کی تنقید اور دباؤ پر واپس لے لیا گیا۔
طالبان نے مقامی لشکر کو ابتدا میں دھمکیاں دیں اور بعد میں انہوں نے جرگوں اور مساجد پر خودکش حملوں کا سلسلہ شروع کردیا باجوڑ اور اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے خودکش حملے اس کی ایک مثال ہیں جس میں بہت سارے قبائلی مشران ہلاک کیے گئے، ٹارگٹ کلنگ کی گئی، سوات میں پیر سمیع اللہ کو قتل کر کے ان کی لاش سرعام لٹکادی گئی اور باجوڑ میں مقامی رضاکاروں کے مشران کے کان کاٹ دیے گئے۔
طالبان کی ان کارروائیوں نے مقامی لشکر کے اوسان خطا کردیے۔ مقامی لشکر میں شامل مشران کہتے رہتے ہیں کہ حکومت نے ضرورت کے وقت مالی مدد اور فوجی کمک کا وعدہ پورا نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ضلع بونیر میں طالبان مخالف لشکر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک اجلاس میں مدد کا وعدہ کیا لیکن جب وقت آیا تو مالاکنڈ کے کمشنر نے انہیں ڈرا کر علاقہ چھوڑ کر اسے طالبان کے حوالے کرنے پر مجبور کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بونیر میں مقامی لشکر اپنے طور پر اتنا مضبوط تھا کہ اس نے تقریباً ایک سال تک طالبان کا کا راستہ روکا لیکن جب حکومت نے انہیں ’دھوکہ‘ دیا تو بونیر طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔
مقامی لشکر کی تشکیل کی حکمت عملی کا بظاہر مقصد یہی تھا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والے امریکہ کو یہ باور کرائے جائے کہ وہ عوامی طاقت سے شدت پسندی کو کچلنے جا رہی ہے۔لیکن ہوا یوں کے بعض مقامی لشکر کے قائدین اور مشتبہ طالبان کے درمیان ایک دن پہلے یہ طے پا جاتا کہ وہ اپنا گھر خالی کردیں اور وہ اسے محض دکھاوے کے لیے جزوی نقصان پہنچائیں گے۔
ذرائع کے مطابق کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ کان کو نقصان پہنچانے کے بدلے مشکوک طالب کو معاوضے کے طور پر پہلے سے ہی کچھ رقم اد کردی جاتی۔
مختلف علاقوں میں مقامی لشکر کی پسپائی کے بعد قبائلی مشران حکومت کی حکمت عملی پر شک کا اظہار کرنے لگے۔ بعض مشران تو یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ حکومت مقامی لشکر کو تشکیل دیکر دراصل طالبان کی بلاواسطہ مدد کرتی ہے۔
وہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ حکومت مقامی لشکر کی حکمت عملی اپنا کر لوگوں میں موجود ان عناصر کا سراغ لگاتی ہے جو نظریاتی طور پر طالبان کے مخالف ہوتے ہیں جن میں طالبان کی مزاحمت کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ مقامی لشکر میں جب ایسی شخصیات سامنے آجاتی ہیں تو طالبان انہیں نشانہ بنا کر ہلاک کرتے ہیں۔
مقامی لشکروں کی مدد سے شدت پسندی سے نمٹنے میں حکومت کے عزم پر اس لیے بھی شک کیا جاتا رہا ہے کہ جب بھی حکومت کی نیت درست ہوتی ہے تو اس نے بڑی کامیابی کے ساتھ شدت پسندوں کو پسپائی پر مجبور کیا ہے۔ اس کے لیے دو ہزار چھ میں جنوبی وزیرستان میں ازبک جنگجؤوں کے خلاف مقامی طالبان، قبائلی لشکر اور فوج کی مشترکہ کارروائیوں کی مثال دی جاتی ہے۔
ان کارروائیوں میں تینوں نے مل کر منظم انداز میں ازبک جنگجؤوں کے ساتھ جنگ لڑی اور انہیں وانا اور وزیر قبائل کے علاقوں سے نکال باہر کیا۔ اس کارروائی میں طالبان، مقامی لشکر کو فوج کی فضا ئیہ کی مدد حاصل تھی اور ذرائع کے مطابق فوجی جوان سادہ کپڑوں میں طالبان اور قبائلی لشکر کے ہمراہ لڑتے رہے۔
مقامی لشکروں کی مدد سے شدت پسندوں سے نمٹنے کی حکومتی حکمت عملی کو کچھ حلقوں کی جانب سے اس تنقید کا بھی سامنا ہے کہ وہ بظاہر ایک نجی ملیشا سے جان چھڑانے کی خاطر دوسری نجی ملیشیا کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا ایک نقصان یہی بتایا جا رہا ہے کہ اس سے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
ملک کے اندر قانون نافذ کرنے والے ادارے، عوام اور مقامی شدت پسند ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن رہتے ہیں اور پھر کسی ایک شہری یا طبقے کے لیے پر امن رہنے کی آپشن تک باقی نہیں رہ جاتی۔






















