’سپرداری پر دی گئی گاڑیاں واپس لیں‘

Image
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سندھ حکومت کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایک ماہ کے اندر وزراء اور سرکاری عہدوں پر فائض سرکاری ملازمین کو سپُردداری پر دی جانے والی گاڑیوں کو واپس لیکر نظارت برانچ میں جمع کروائیں۔

یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز جمعہ خان کی درخواست کی سماعت کے دوران سندھ حکومت کو دیئے۔

سندھ حکومت کے سپیشل ہوم سیکرٹری نے سپردداری پر دی جانے والی گاڑیوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ دو سو چار گاڑیاں سپرداری پر دی گئی ہیں جس میں سے ان گاڑیوں کے اصل مالکان کے علاوہ متعدد گاڑیاں سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ صوبے میں تعینات مختلف بیوروکریٹس اور حساس اداروں کو بھی دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ گاڑیاں سندھ کے وزیر اعلی، صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر وزراء کے ذاتی عملے کے استعمال میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے 54 گاڑیاں ملٹری انٹیلیجنس کے پاس ہیں جن میں سے متعدد گاڑیوں کی رجسٹریشن نہیں ہے۔

سپیشل ہوم سیکرٹری کا کہنا تھا کہ دو گاڑیاں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے دو جج صاحبان اور ایک گاڑی سول جج کے زیر استعمال ہے۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری نے عدالت کو بتایا کہ ان گاڑیوں کی واپسی کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی اُنہیں ایک ماہ کی مہلت دی جائے تاکہ ان گاڑیوں کو مزکورہ افراد سے واپس لیکر نظارت برانچ میں جمع کروایا جاسکے۔

اس سے قبل صوبہ بلوچستان کے متعلقہ حکام نے بھی عدالت میں سپردداری پر دی جانے والی گاڑیوں کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس نے اٹھارہ سو گاڑیاں قبضے میں لی تھیں جن میں سے زیادہ تر گاڑیاں اُن کے مالکان کے حوالے کی گئی ہیں۔اسلام آباد اور پنجاب پولیس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سپردداری کی گاڑیوں کے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس نے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ سپردداری کی تمام گاڑیاں سرکاری افسران اور دیگر افراد سے واپس لیکر سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔