دیر: جنگجوؤں کے 24 گھراور مراکز تباہ

دیر
،تصویر کا کیپشندیر میں مسجد کے حملے میں کم سے کم چالیس لوگ ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں مقامی لشکر اور مسلح عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ تسیرے روز بھی جاری ہے جس میں اب تک کم سے کم دس عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لشکر نے شدت پسندوں کے چوبیس کے قریب گھروں اور مراکز کو تباہ کردیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقامی لشکر نے پہاڑی علاقے ڈوگ درہ میں شدت پسندوں کے دو دیہات شاٹ کس اور غازی گئی میں چاروں اطراف سے محاصرے میں لیا ہوا ہے جہاں فریقین مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر وقفے وقفے سے فائرنگ کررہے ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو تین علاقوں مینہ، ملوک غوڑ اور ڈوگ بالا سے نکال دیا گیا ہے تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

شرینگل تھانے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑائی میں طالبان کے ایک اہم کمانڈر چمتو ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی میں فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ تین دن قبل دیر بالا کے علاقے حیا گئی میں ایک مسجد میں ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس دھماکے کا الزام پہاڑی علاقے ڈوگ درہ میں سرگرم مقامی طالبان پر عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف لشکر تشکیل دیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کا تعلق ڈوگ درہ سے بتایا جاتا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لشکر میں ہزار سے لیکر پندرہ سو کے قریب افراد شامل ہیں جن میں اکثریت کا تعلق حیا گئی گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اور آج دیر بالا کے دیگر علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ لشکر میں شامل ہوئے ہیں۔