بنوں میں کرفیو، فوج کی گولہ باری شروع

- مصنف, دلاور خان وزیر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں کے ایف آر علاقوں پر سکیورٹی فورسز نے گولہ باری کی ہے۔ اس سے قبل اس علاقے میں فوجی آپریشن کے پیش نظر حکام نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بنوں کینٹ سے جانی خیل کے علاقے پر گولہ باری کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بنوں پولیس کے سربراہ محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے بارہ تھانوں میں سے چھ تھانوں کی حدود میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو کا اعلان کیاگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان چھ تھانوں کی حدود قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور نیم قبائلی علاقے جانی خیل اور بکا خیل سے لگی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے خدشہ تھا کہ ایف آر جانی خیل میں ممکنہ فوجی آپریشن سے شدت پسند بنوں میں داخل ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جن تھانوں کی حدود میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اس میں شہر کے اندر کینٹ، سٹی اور صدر شامل ہیں اور اس کے علاوہ شہر سے باہر میریان، حاوید اور منڈان کے علاقے شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق بنوں میں جنرل بس سٹینڈ کو بھی گاڑیوں سے خالی کردیا گیا ہے۔
ادھر ایف آر کے علاقے جانی خیل میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار عبدالرازق نے بی بی سی کو بتایا کہ سینکڑوں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکار جانی خیل پہنچ گئے ہیں اور چاروں طرف سے علاقے کو سیل کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جانی خیل میں لوگوں نے پہلے ہی سے علاقے کو خالی کردیا تھا اور زیادہ تر لوگ بنوں اور لکی مروت میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جانی خیل میں فوجی آپریشن سے دو دن قبل انتظامیہ کی جانب سے علاقے کو خالی کرنے کے اعلان کے بعد علاقے سے شدت پسند بھی نکل چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری طرف مقامی انتظامیہ نے بنوں شہر میں دو قبائل جانی خیل اور بکا خیل سے تعلق رکھنے والے افراد کی املاک کو سیل کر دیا ہے اور شدت پسندوں کو انتظامیہ کے حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ ایک ہفتہ پہلے رزمک کالج سے کوئی تین سو طلبہ اور اساتذہ چھبیس گاڑیوں میں بنوں جارہے تھے کہ بکاخیل اور جانی خیل کے علاقے سے بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے انہیں اغواء کر لیا تھا۔ جس پر پولیٹکل انتظامیہ نے ایف سی آر میں علاقائی ذمہ داری کے تحت بکا خیل اور جانی خیل کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔






















